Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان کے مشیر انور گرگاش نے کہا کہ ملک کو اس وقت ہتھیاروں یا فوجیوں سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مشکل وقت میں کن ممالک پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے اتحادیوں کی حقیقی وابستگی کو واضح کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مخصوص غذاؤں کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانے سے خواتین اپنی صحت بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان غذاؤں کو استعمال کرنے سے توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔

جاپان دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرکاری اور نجی ذخائر ملا کر تقریباً 254 دن کی کھپت کے برابر تیل موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک اپنی 90 فیصد سے زیادہ خام تیل کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ جنگی صورتحال میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھ رہا ہے، جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں، وہیں ایران بھی جوابی حملے کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کے نظام پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

ترمیم شدہ اُڑان اسکیم بھارت کے فضائی نیٹ ورک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف دور دراز علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے سے جوڑا جائے گا بلکہ اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور عوامی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

آئی ایم ای سی منصوبہ صرف ایک اقتصادی راہداری نہیں بلکہ ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بھارت اور اس کے شراکت دار ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ خود کو ایک شفاف، مستحکم اور قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر کس حد تک ثابت کر پاتا ہے۔

فیفا کے مطابق یہ معمول کی حکمت عملی ہے، جس کے تحت بڑے عالمی ایونٹس کے لیے پہلے اضافی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی کمی سے بچا جا سکے، اور بعد میں اصل ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کر لی جاتی ہے۔ اگرچہ ہوٹل مالکان اس فیصلے سے خوش نہیں، لیکن یہ کوئی بڑا نقصان نہیں کیونکہ یہ کمرے دوبارہ مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے اور فٹبال شائقین انہیں آسانی سے بک کر سکتے ہیں۔

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس راستے میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو گئی ہے، جس کا اثر بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ رہا ہے۔

نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن کو بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، یہ وقت سیاسی بیان بازی کا نہیں بلکہ قومی مفاد میں یکجہتی دکھانے کا ہے۔