Habiburrahman
Bharat Express News Network
UAE needs support than weapons: ’’متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں سے زیادہ قابل اعتماد حمایت درکار‘‘ صدارتی مشیر نے مشرق وسطیٰ کشیدگی کے دوران اتحادی ممالک کے کردار پر اٹھائے سوال
یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان کے مشیر انور گرگاش نے کہا کہ ملک کو اس وقت ہتھیاروں یا فوجیوں سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مشکل وقت میں کن ممالک پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے اتحادیوں کی حقیقی وابستگی کو واضح کر دیا ہے۔
Health Diet: بہترغذائی انتخاب سے کمزوری، ہارمون عدم توازن اور دیگر مسائل پر قابو ممکن، جانئے خواتین کی صحت کے لیے 7 ضروری غذائیں
ماہرین کے مطابق مخصوص غذاؤں کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانے سے خواتین اپنی صحت بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان غذاؤں کو استعمال کرنے سے توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔
Japan Oil Reserves: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سےجاپان اپنے سرکاری ذخیرے سے ریلیز کرے گا 30 دن کا ریزرو آئل
جاپان دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرکاری اور نجی ذخائر ملا کر تقریباً 254 دن کی کھپت کے برابر تیل موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک اپنی 90 فیصد سے زیادہ خام تیل کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ جنگی صورتحال میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
North Korea’s nuclear deterrence: کم جونگ اُن کا جوہری ہتھیاروں پر سخت موقف، کہا-’’شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو جواز فراہم کرتی ہے ایران کی جنگ‘‘
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھ رہا ہے، جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں، وہیں ایران بھی جوابی حملے کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کے نظام پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
No peace talks with Washington: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی ایران نے کی تردید، امریکی صدر کے دعوؤں کے باوجود تہران کا دوٹوک موقف
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ مذاکرات کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں ایران اور اسرائیل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی ابھی برقرار رہے گی اور فوری طور پر کسی امن معاہدے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔
Revised UDAN Scheme: وزیراعظم مودی کی قیادت میں ترمیم شدہ اڑان اسکیم کو کابینہ کی منظوری، 28 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے 100 ہوائی اڈوں کی ہوگی تزئین
ترمیم شدہ اُڑان اسکیم بھارت کے فضائی نیٹ ورک کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف دور دراز علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے سے جوڑا جائے گا بلکہ اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور عوامی سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
India-Israel Partnership: وزیراعظم مودی کے اسرائیل دورے سے آئی ایم ای سی کو ملی تقویت، اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات مزید مضبوط
آئی ایم ای سی منصوبہ صرف ایک اقتصادی راہداری نہیں بلکہ ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بھارت اور اس کے شراکت دار ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ خود کو ایک شفاف، مستحکم اور قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر کس حد تک ثابت کر پاتا ہے۔
Football World Cup: فٹبال ورلڈ کپ 2026 سے قبل فلاڈیلفیا میں دو ہزار ہوٹل کمرے منسوخ، فیفا نے بتائی وجہ، ہوٹل مالکان فیصلے سے ناراض
فیفا کے مطابق یہ معمول کی حکمت عملی ہے، جس کے تحت بڑے عالمی ایونٹس کے لیے پہلے اضافی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی کمی سے بچا جا سکے، اور بعد میں اصل ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کر لی جاتی ہے۔ اگرچہ ہوٹل مالکان اس فیصلے سے خوش نہیں، لیکن یہ کوئی بڑا نقصان نہیں کیونکہ یہ کمرے دوبارہ مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے اور فٹبال شائقین انہیں آسانی سے بک کر سکتے ہیں۔
West Asia conflict: وزیراعظم مودی کا اہم اعلان، مغربی ایشیا بحران کے پیش نظر ایندھن و گیس سپلائی کے لیے 7 بااختیار گروپس کی تشکیل
مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس راستے میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو گئی ہے، جس کا اثر بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ رہا ہے۔
We have faith in PM Modi: ’’ملک میں کسی بھی طرح کی مشکل پیدا نہیں ہوگی‘‘ چراغ پاسوان کا وزیراعظم مودی پر مکمل اعتماد کا اظہار
نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن کو بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، یہ وقت سیاسی بیان بازی کا نہیں بلکہ قومی مفاد میں یکجہتی دکھانے کا ہے۔





