Habiburrahman
Bharat Express News Network
Symbol of India’s new spirit: اترپردیش میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلنے کی امید، وزیراعظم مودی نے کہا- ’’جیور ایئرپورٹ نئے بھارت کی روح کی علامت‘‘
وزیراعظم مودی نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور خوراک، ایندھن و کھاد کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ان مسائل کا بوجھ عام شہریوں اور کسانوں پر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان عالمی چیلنجز کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔
Victim Card Politics: ’’ممتا دیدی ہمیشہ ’وکٹم کارڈ‘ کی سیاست کھیلتی رہیں‘‘ وزیرداخلہ امت شاہ کا دراندازوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ممتا بنرجی ہمیشہ خود کو مظلوم ظاہر کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کبھی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، کبھی سر پر پٹی بندھ جاتی ہے، کبھی بیمار ہو جاتی ہیں اور پھر الیکشن کمیشن کے سامنے بے بسی ظاہر کرتی ہیں۔‘‘
Red Alert siren at the UN: اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اسرائیلی سفیر کی بے بسی، سائرن بجا کر اسرائیلی شہریوں کے خوف کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اچانک سائرن بجا کر اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر چلا کر ارکان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ میزائل حملوں کے دوران شہری کس ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ یواین میں اس طرح کی بے بسی کو دکھانا اور دنیا سے رحم طلب نظروں کی امید رکھنا اسرائیل کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
Naxal-free India: ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کی کوششوں پر لوک سبھا میں ہوگی اہم بحث، کیا ہے وزیرداخلہ کا نکسل فری بھارت کا ہدف؟
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ حکومت 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے سکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ بازآبادکاری کی پالیسی پر بھی زور دیا ہے۔
Jaishankar met with President Macron: ڈاکٹر ایس جے شنکر کی پیرس میں ایمانوئل میکرون سے ملاقات، وزیراعظم مودی کا پیغام پہنچایا، دوطرفہ تعلقات اورعالمی امور پر تبادلۂ خیال
یہ ملاقات بھارت اور فرانس کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، جو مستقبل میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔
Adani Defence Supplies: اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس نے بھارتی افواج کے حوالے کی دیسی لائٹ مشین گنز کی پہلی کھیپ، تین سال میں 41 ہزار ہتھیار دینے کا ہدف
یہ پیش رفت بھارت کی دفاعی خود کفالت کی پالیسی کو نئی رفتار دیتی ہے۔ دیسی ہتھیاروں کی تیاری نہ صرف درآمدات پر انحصار کم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی دفاعی صنعت کو بھی مضبوط مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
Khelo India Tribal Games: کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز قبائلی کھلاڑیوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم، اولمپک میڈلسٹ میرابائی چانو نے کہا-’’نئے کھلاڑیوں کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا سنہری موقع
کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 25 مارچ سے 3 اپریل تک منعقد ہو رہے ہیں، جن میں 30 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے حصہ لے رہے ہیں۔ ان مقابلوں میں تیراندازی، ایتھلیٹکس، فٹبال، ہاکی، تیراکی، ویٹ لفٹنگ اور کشتی جیسے کھیل شامل ہیں، جبکہ مل کھمبھ اور کبڈی کو نمائشی کھیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ECI bans on Exit Polls: الیکشن کمیشن آف انڈیا کی آسام الیکشن کے پیش نظر سخت ہدایت، 9 اپریل سے 29 اپریل تک ایگزٹ پول نشر یا شائع کرنے کی نہیں ہوگی اجازت
آسام کی 126 نشستوں والی اسمبلی کے لیے حکمراں بی جے پی اتحاد اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ کانگریس اقتدار میں واپسی کے لیے میدان میں ہے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے اتحاد نے 75 نشستیں جیتی تھیں، جن میں بی جے پی کو اکیلے 60 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔
World’s Most Popular Leader: عالمی سطح پر سب سے مقبول رہنماؤں میں وزیراعظم نریندر مودی سرفہرست، مارننگ کنسلٹ سروے میں 68 فیصد منظوری
فہرست میں سوئٹزرلینڈ کے صدر گائی پرمیلن اور جنوبی کوریا کے صدرلی جے میونگ62 فیصد منظوری کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو 39 فیصد، جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم کیراسٹارمر کو 24 فیصد منظوری حاصل ہوئی۔ فرانس کے صدر ایمونوئل میکروں صرف 17 فیصد کے ساتھ فہرست میں نچلے درجے پر رہے۔
Iran rejects American peace overture: امریکہ کی پیشکش ’فریب‘ قرار، ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے 5 شرائط رکھیں، کہا-’’جنگ ہمارے وقت اور شرائط پر ہی ختم ہوگی‘‘
ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’’خود سے مذاکرات کر رہا ہے‘‘ اور اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے سخت مؤقف اور اپنی شرائط پر اصرار کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تنازع فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، جبکہ عالمی توانائی اور سلامتی کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔





