Habiburrahman
Bharat Express News Network
BJP Bengal files complaint: مغربی بنگال میں انتخابی عملے کی تقرری پر بی جے پی کی شکایت، الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ
پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لکھے گئے خط میں الزام لگایا کہ ریٹرننگ آفیسر پورنیما دے نے 10 اپریل کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے کانٹریکٹ ملازمین کو سیکٹر اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ سیکٹر آفیسر کے طور پر تعینات کیا۔
US-Iran talks concludes: اسلام آباد میں امریکہ–ایران مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ایرانی مفادات کو مقدم رکھنے کا عزم، دونوں ممالک کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ
اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ ممکنہ طور پر اس دور کے مذاکرات کا فیصلہ کن موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
Adani Group’s Takeover Of JAL: جے پرکاش گوڑ نے جے اے ایل کے حصول پر اڈانی گروپ کی حمایت کی، گوتم اڈانی کی قیادت میں کمپنی کے بہتر مستقبل کا اظہار
جے پرکاش گوڑ نے اڈانی گروپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ کمپنی تمام اسٹیک ہولڈرز کی توقعات پر پورا اترے گی۔ انہوں نے اس عمل میں شامل تمام فریقین بشمول ریزولوشن اتھارٹیز اور دیگر بولی دہندگان، خاص طور پر ویدانتا گروپ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
Our fingers remain on the trigger: ’’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو نتائج ہوں گے سنگین‘‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اسرائیل کو سخت انتباہ
ایرانی صدر نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ ’’صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان پر نئے حملے سیزفائر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات مذاکرات کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘‘
PM Modi slams TMC: ’’ماں رو رہی ہے، ماٹی پر دراندازوں نے قبضہ کرلیا ہے اور مانُش خوفزدہ ہیں‘‘ وزیراعظم مودی کی بنگال حکومت پر سخت تنقید
وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
Sabka Saath, Sabka Vikas: بنگال میں بی جے پی حکومت بنی تو ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے ساتھ لوٹ کرنے والوں کا بھی ہوگا حساب: وزیراعظم مودی
وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں روزگار میلوں کے بجائے ’نوکریوں کی لوٹ‘ جاری ہے اور اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ہزاروں خاندانوں کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔
Assembly polls: اسمبلی انتخابات میں دکھا زبردست جوش، پڈوچیری میں سب سے زیادہ 89.20 فیصد ووٹنگ، آسام دوسرے اور کیرلم تیسرے نمبر پر
تینوں خطوں میں ووٹنگ کے بعد اب سب کی نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومتوں کی تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقائی سیاست کے لیے اہم ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ان کے نتائج آنے والے سیاسی رجحانات کی سمت طے کر سکتے ہیں۔
TMC government failed: وزیراعظم نریندر مودی نے ترنمول کانگریس کو بنایا نشانہ ، کہا-’’مغربی بنگال حکومت ’’سنڈیکیٹ سسٹم‘‘ پر مبنی‘‘
وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔
PM Modi in Haldia: وزیراعظم مودی کا ہلدیہ میں بڑا دعویٰ، کہا-’’انتخابات بنگال کی تقدیر کا فیصلہ کن مرحلہ، پورا مغربی بنگال تبدیلی کی راہ پر گامزن‘‘
مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوگی جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ گزشتہ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 213 نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔
Trump Considers Withdrawing from NATO: ایران تنازع کے پس منظر میں امریکہ-نیٹو اختلافات میں اضافہ، ٹرمپ کا نیٹو سے علیحدگی پر غور، سکریٹری جنرل مارک سے اہم ملاقات
نیٹو کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی اور تب سے یہ مغربی ممالک کے اجتماعی دفاع کا اہم ستون رہا ہے۔ اس کے باہمی دفاعی اصول کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد تمام ممالک اس کے دفاع کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔





