نئی دہلی: سی بی آئی نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ملزمہ منیشا گروناتھ ماندھارے کو اتوار کے روز دہلی کی روز ایونیو عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے 14 دن کی تحویل مانگی۔ ملزمہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے پینل کا حصہ تھیں اور امتحانی عمل میں ماہر اور مترجم کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ این ٹی اے کے ذریعے اختیار کیے گئے پورے امتحانی عمل کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ایجنسی کے مطابق ملزمہ پر طلبہ سے رقم لینے کا بھی الزام ہے، جس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ سماعت کے دوران دفاعی وکیل نے سی بی آئی کی ریمانڈ درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کے گھر سے کوئی برآمدگی نہیں ہوئی ہے۔ وکیل کے مطابق منیشا گروناتھ ماندھارے پہلے بھی دو مرتبہ تفتیش میں شامل ہو چکی ہیں اور تین دن تک حراست میں رہ چکی ہیں۔
بوٹنی اور زولوجی کے سوالات لیک کرنے کا الزام
حکام کے مطابق ملزمہ کو متھرا کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پوچھ گچھ کے بعد انہیں باضابطہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ منیشا گروناتھ ماندھارے پونے کی سینئر بوٹنی ٹیچر ہیں۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ انہیں این ٹی اے کی جانب سے بوٹنی اور زولوجی سوالناموں تک رسائی حاصل تھی۔ ایجنسی کے مطابق اپریل کے دوران انہوں نے پہلے سے گرفتار ملزمہ منیشا واگمارے کے ذریعے امیدواروں کو اکٹھا کیا اور اپنے گھر پر خصوصی کوچنگ کلاسز منعقد کیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان کلاسز میں بوٹنی اور زولوجی سے متعلق وہ سوالات بتائے گئے جو بعد میں 3 مئی کو منعقد ہونے والے اصل امتحان میں شامل پائے گئے۔
کئی شہروں میں چھاپے، اب تک نو گرفتاریاں
سی بی آئی نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں چھ مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور کئی اہم دستاویزات، لیپ ٹاپ، بینک اسٹیٹمنٹس اور موبائل فون ضبط کیے ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ مواد کا تفصیلی تجزیہ جاری ہے۔ یہ مقدمہ 12 مئی کو وزارت تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کی تحریری شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ اب تک اس کیس میں سی بی آئی دہلی، جے پور، گروگرام، ناسک، پونے اور اہلیہ نگر سے نو ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ ان میں سے پانچ ملزمان کو پہلے ہی عدالت میں پیش کرکے سات دن کی پولیس تحویل میں بھیجا جا چکا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں کیمسٹری اور بایولوجی کے سوالات کے مبینہ لیک ہونے، طلبہ کو لاکھوں روپے کے عوض خصوصی کوچنگ میں شامل کرنے اور درمیانی رابطہ کاروں کے کردار کا انکشاف ہوا ہے۔ سی بی آئی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ، جامع اور پیشہ ورانہ تحقیقات جاری رکھے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
