Bharat Express DD Free Dish

Paper Leak Case

امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کی تیاری، سکیورٹی مضبوط بنانے اور پیپر لیک و سائبر چھیڑ چھاڑ روکنے پر زور دیا گیا۔

جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ دھاندلی کے خلاف رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ صرف وزیر اعلیٰ سے اور میڈیا کی موجودگی میں ہی بات چیت کریں گے۔

لوک سبھا فی الحال پیپرلیک کو روکنے کے لئے ایک ترمیمی بل پربحث کر رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے پیپر لیک سے متعلق حکومت پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش میں 20 سے زائد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رام مندر میں دیئے گئے چندے اور چڑھاوے میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ وجیندر کمار گپتا کو بہار سے گرفتار کرنے کے بعد پونے ایئرپورٹ لایا گیا ہے، جہاں سے اسے بھونڈی منتقل کیا جائے گا تاکہ مزید پوچھ گچھ کی جا سکے۔ اس معاملے میں اب تک متعدد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ پہلے گرفتار افراد کو عدالتی تحویل میں بھیجا جا چکا ہے۔ادھر ایس آئی ٹی نے مزید کارروائی کرتے ہوئے مطلوب ملزم کپل دہیا سمیت تین دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ آپ ہی نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے تعلیمی نظام پر مکمل قبضہ ہونے دیا، اسے تباہ ہونے دیا، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اس کے ذمہ دار ہر شخص کو تحفظ فراہم کیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ طلبہ کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی یہ ایک اہم کڑی ہے۔ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔

 عام آدمی پارٹی کے نیشنل کنوینر اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ پیپرلیک کا کاروباراربوں-کھربوں روپئے کا ہے اوراس کا پیسہ ٹاپ تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی نیت پیپرلیک روکنے کی نہیں ہے، اب نظام بدلنے کے لئے عوام کو سڑکوں پرآنا پڑے گا۔

ملزمہ پر بوٹنی اور زولوجی کے سوالات لیک کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سی بی آئی نے منیشا گروناتھ ماندھارے کو اتوار کے روز دہلی کی روز ایونیو عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے 14 دن کی تحویل مانگی۔ ملزمہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے پینل کا حصہ تھیں اور امتحانی عمل میں ماہر اور مترجم کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا، "سلیکشن کمیشن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھرتی کے امتحانات کے لیے وقت پر کیلنڈر جاری کریں اور اس پر عمل کریں۔اگر امتحان کیلنڈر کے مطابق نہیں ہوتے ہیں  تو اس سے امیدواروں کو پریشانی اور تکلیف  ہوتی ہے۔

ملزمان کی جانب سے کہا گیا کہ ایس او جی نے ملزمان کو آر پی اے سے اٹھایا اور انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا اوربعد میں انہیں گرفتار ظاہر کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا۔ نچلی عدالت نے ملزم کو رہا کرنے کا جو حکم دیا ہے وہ درست ہے۔