Bharat Express DD Free Dish




Bharat Express News Network


بی جے پی میں ادھو ٹھاکرے کی واپسی کی قیاس آرائیوں پر آدتیہ نے صاف کہا کہ لوٹ، بدعنوانی اور غلط پالیسیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وزیر اعظم مودی سے کبھی خراب تعلقات نہیں رہے اور راہل گاندھی سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ آدتیہ نے کہا کہ ’سیاست میں کوئی کسی کا دشمن نہیں ہوتا‘۔

بہار میں موجودہ حکومت کا مدت کار نومبر تک ہے، اس لیے توقع ہے کہ انتخابات کی شروعات نومبر کے پہلے ہفتے میں ہو سکتی ہے۔ پچھلی بار 2020 میں انتخابات تین مرحلوں میں ہوئے تھے: 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس بار بھی دو سے تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم مودی کُسُم یوجنا کے 50 مستفیدین سے بھی ملاقات کریں گے جن میں مہاراشٹر اور راجستھان کے کسان شامل ہیں۔ یہ دورہ جنوبی راجستھان کے قبائلی علاقے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں بی جے پی ترقی کو مرکز میں رکھ کر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم نے جی ایس ٹی کی شرحوں میں جو کمی کی ہے اس سے تاجروں کی فروخت بڑھے گی اور تہوار کے موقع پر عوام کو کم قیمت پر اشیاء مل سکیں گی۔ نئے جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ ہی عوام کے لیے ’بچت اتسو‘ شروع ہوا ہے۔

پولیس کمشنریٹ کا مقصد خواتین کی حفاظت، عزت اور خودانحصاری کو یقینی بناتے ہوئے سائبر کرائم جیسے جدید جرائم کے بارے میں سماج کو بیدار کرنا ہے، تاکہ ایک محفوظ اور پُراعتماد ماحول پیدا کیا جا سکے۔

وزیراعظم مودی کے ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر دنکر کی شاعری اور ان کے خدمات پر زبردست چرچا ہوا۔ مختلف پروگراموں میں مشاعرے، لیکچر اور علمی اجلاس منعقد کر کے ان کے خیالات اور تخلیقات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

نریندر مودی کی شاعری محض فنونِ لطیفہ میں ایک مشق نہیں ہے — یہ ایک ایسے رہنما کی روح  میں جھانکتی ہے جو حکمرانی کو وقار کے ساتھ، حکمت عملی کو حساسیت کے ساتھ اور طاقت کو شاعری کے ساتھ توازن میں رکھتا ہے۔ آج کے دور میں جب تقریریں اور نعرے سیاست پر حاوی ہیں، ان کے اشعار یاد دلاتے ہیں کہ ایک منجھے ہوئے سیاستداں کے پیچھے ایک چھپا ہوا شاعر بھی موجود ہے — جو خاموشی سے ایک قوم کی روح اور ایک انسان کے سفر کو قلمبند کرتا ہے۔

دہلی کے تین مورتی-ہائیفا چوک پرہائیفا وجے دیوس منایا گیا۔ پروگرام میں ہندوستان-اسرائیل کی دوستی اور شہیدوں کی قربانی کو یادکیا گیا۔ اس موقع پرآرایس ایس لیڈراندریش کمارنے کہا کہ بھارت وِشوگروتھا، ہے اوررہے گا۔

پرنٹنگ کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایک مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار شدہ ڈی-پاؤڈرنگ مشین بھی شامل ہے، جو پوسٹ پروسیسنگ کے اہم مرحلے میں اجزاء کی ہموار سطح اور خلائی معیار کو یقینی بناتی ہے۔ اس مشین کی اندرونِ ملک تیاری سے بیرونی انحصار کم ہوا اور معیار مسلسل برقرار رہتا ہے۔

سینئر حکام کے مطابق کئی جہاز ترسیل کے قریب ہیں اور کچھ اس سال ہی کمیشن کیے جائیں گے۔ تمام 54 جہاز 2030 تک بحری بیڑے میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ بھارت نے 2035 تک اپنی بحری قوت کو 200 سے زائد جنگی جہازوں اور آبدوزوں تک بڑھانے اور 2037 تک 230 تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔