Bharat Express DD Free Dish




Bharat Express News Network


کمپنی کے مطابق، NSRCEL کے ساتھ مل کر یہ پروگرام اگلے سال بھارت میں 1,000 خواتین کاروباریوں کو گریجویٹ کرنے اور موجودہ 3,800 خواتین کی شمولیت کو بڑھا کر 2033 تک 10,000 کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہمارا اصول یہ ہے کہ انفراسٹرکچر سے لے کر AI تک پورا اسٹیک، ڈیٹا، ٹیکنیکل اور آپریشنل خودمختاری کے ساتھ ہو۔ ہم یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم مقامی اور قانونی تقاضوں پر عمل کریں گے۔ کچھ واقعات ایسے ہو سکتے ہیں جنہیں ہم نے سوچا نہ ہو، لیکن ہماری بڑی فلاسفی یہی ہے کہ ہم مکمل خودمختاری فراہم کرتے رہیں گے۔‘‘

2025 کی پہلی ششماہی میں عالمی کمرشل ریئل اسٹیٹ (CRE) فنڈ ریزنگ 111 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2024 کے کل کا 85 فیصد ہے۔ قرض اور ویلیو ایڈ اسٹریٹجیز میں دلچسپی بڑھی، جبکہ ڈیٹا سینٹر فنڈ ریزنگ میں بھی تیزی آئی۔

ای وائی کے اعداد و شمار کے مطابق، جی سی سیز ایک 64 ارب ڈالر کی مارکیٹ بن چکی ہیں، جو 2019 سے 2024 تک تقریباً 9.8 فیصد سالانہ ترقی کر رہی ہیں۔ مشاورتی فرم نے کہا کہ مراکز کی تعداد موجودہ 1,700 سے بڑھ کر 2030 تک 2,500 تک پہنچنے کے قریب ہے، جبکہ مارکیٹ ویلیو 110 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’دنیا میں بھارت کا کوئی بڑا دشمن نہیں ہے۔ اگر کوئی دشمن ہے، تو وہ ہے دوسروں پر ہماری نربھرتا۔ ہمیں اس دشمن کو شکست دینی ہے۔‘‘

بی جے پی نے وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر 15 روزہ ’سیوا پکھواڑا‘ مہم شروع کی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں خون عطیہ کیمپ، صفائی مہمات اور سرکاری کامیابیوں پر مبنی نمائشیں منعقد کی جا رہی ہیں۔

اس موقع پر گجرات کے وزیرِاعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے وزیرِاعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔ دن کی شروعات میں وزیراعظم نے ’’سمندر سے سمردھی‘‘ نمائش کا معائنہ کیا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل منیر نے آرمی چیف بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، ڈرون حملے کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔

وزیراعظم 7,870 کروڑ روپے کے میری ٹائم (بحری) شعبے سے متعلق منصوبے بھی شروع کریں گے، جن میں ممبئی انٹرنیشنل کروز ٹرمینل کا افتتاح بھی شامل ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ افسر ذاکر جلالی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’افغان عوام نے تاریخ میں کبھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔ دوحہ معاہدے میں بھی یہ بات طے ہو چکی ہے۔‘‘