Urdu Conclave 2026

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


حالیہ برسوں میں بھارت اور سربیا کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ چند ماہ قبل بھارت میں منعقدہ "اے آئی امپیکٹ سمٹ" کے دوران وزیراعظم مودی اور صدر ووچیچ کے درمیان ایک اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی تھی،

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ بھارت اور فرانس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سال 2026 کو "ایئر آف انوویشن" کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے،

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معاہدہ "آنے والے چند دنوں" میں طے پا سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اگرچہ بعض حساس نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔

اس خوفناک حادثے کے بعد مصروف جبل پور-منڈلا ہائی وے پر ٹریفک کی آمدورفت کچھ وقت کے لیے متاثر رہی، کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ جائے حادثہ پر جمع ہو گئے تھے۔ بعد ازاں پولیس نے تباہ شدہ گاڑیوں کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک بحال کردیا۔

دہلی فائر سروس کے مطابق اس وقت جائے حادثہ پر فائر بریگیڈ کی 9 گاڑیاں تعینات کی گئی تھیں، جن میں 3 واٹر ٹینڈر، 4 واٹر باؤزر، ایک بریتھنگ سپورٹ یونٹ اور ایک ملٹی پرپز ریسکیو گاڑی شامل تھی۔ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا،

قومی دارالحکومت دہلی اور این سی آر کے باشندوں کے لیے آئندہ چار دن کسی حد تک راحت کی خبر ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم 24 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔

13 سال کی عمر میں نکہت نے فیصلہ کر لیا کہ وہ باکسنگ میں ہی اپنا مستقبل بنائیں گی۔ انہوں نے ابتدائی تربیت اپنے چچا سے حاصل کی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سخت مشق جاری رکھی۔ صبح و شام کی طویل ٹریننگ، مسلسل محنت اور مضبوط ارادے نے انہیں آہستہ آہستہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانا شروع کر دی۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق بجلی کی بڑھتی ہوئی لاگت صرف صنعتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عام صارفین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ جب پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا بوجھ بالآخر یوزر پر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں منتقل ہو جاتا ہے،

وزارت نے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تین بھارتی شہریوں کی افسوسناک اور قابلِ گریز ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں شہری اور تجارتی جہازوں کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں

ایک وقت میں بھارتی فضائیہ کے پاس ایسے 100 سے زائد طیارے موجود تھے۔ وقتاً فوقتاً ان میں جدید ایویونکس، نیویگیشن اور حفاظتی نظام نصب کر کے اپ گریڈ بھی کیا گیا ہے۔ تاہم طویل سروس لائف کے باعث انہیں مرحلہ وار نئے ٹرانسپورٹ طیاروں سے تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔