نئی دہلی :خلیج عمان میں ایک آئل ٹینکر پر امریکی بحریہ کی کارروائی کے نتیجے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے امریکہ کے سامنے سخت سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ تجارتی جہازوں کے خلاف اس نوعیت کی مہلک کارروائیاں قابل قبول نہیں ہیں۔وزیر خارجہ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے گفتگو کے دوران خلیج میں امریکی بحریہ کی کارروائیوں پر بھارت کے سخت اعتراض کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں تین بھارتی ملاح اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایسی جان لیوا کارروائیاں درست نہیں سمجھی جا سکتیں۔
اس سے قبل جمعہ کے روز بھارت میں تعینات امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی بحریہ کی جانب سے خلیجِ عمان میں بھارتی ملاحوں کو لے جانے والے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ وزارت نے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تین بھارتی شہریوں کی افسوسناک اور قابلِ گریز ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں شہری اور تجارتی جہازوں کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور حساس خطے میں بین الاقوامی سمندری تجارت کے استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ بھارتی حکام نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں تعینات اپنی افواج کو شہری جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے۔
Spoke to US Secretary of State Marco Rubio this evening. I reiterated India’s strong protest at the attacks by the US Navy in the Gulf that killed three Indian mariners. Such lethal actions against commercial shipping are not justified.
— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) June 12, 2026
یہ سفارتی اقدام اس وقت سامنے آیا جب بھارتی حکام نے تصدیق کی کہ امریکی فوجی کارروائی کے بعد لاپتا قرار دیے گئے تین ملاح ہلاک ہو چکے ہیں۔ حملے کے وقت پلاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر “سیٹی بیلو” پر 28 افراد سوار تھے، جن میں 24 بھارتی شہری اور چار غیر ملکی شامل تھے۔ غیر ملکی عملے میں دو پاکستانی، ایک یوکرینی اور ایک روسی شہری شامل تھے۔واقعے کے بعد 21 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش جاری رہی، بعد ازاں ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی۔ امریکی فوج نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ٹینکر امریکی بحریہ کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہا تھا اور مبینہ طور پر ایران سے تیل لے جا رہا تھا، جو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق اس کے ایک طیارے نے جہاز کو نشانہ بنایا اور اسے ناکارہ بنا دیا کیونکہ عملے نے بارہا دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور جاری علاقائی تنازعات کے باعث سمندری تجارت اور تجارتی جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے۔ بھارت نے اس حملے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز پر بڑی تعداد میں بھارتی شہری موجود تھے اور وہ خالصتاً تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر حملے انتہائی تشویشناک ہیں اور یہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع تر تنازع کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ بھارت نے ایک بار پھر تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اور سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





