نئی دہلی : دہلی میں بجلی کے یوزر کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ بجلی پر عائد ہونے والا فیول سرچارج بڑھا دیا گیا ہے، جس کے باعث جون کے ماہ کے بجلی بل گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں زیادہ آ سکتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو یوزر کے لیے قدرے راحت کی بات یہ ہے کہ سبسڈی کا نظام بدستور جاری رہے گا، اس لیے ان پر اس اضافی بوجھ کا براہِ راست اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔
دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن(ڈی ای آر سی) نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو فیول اینڈ پاور پرچیز ایڈجسٹمنٹ سرچارج (ایف پی پی اے ایس) کی حد بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ پہلے یہ حد 10 فیصد تھی، جسے اب بڑھا کر تقریباً 16 سے 17 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے اثرات یوزر کو آنے والے بجلی بلوں میں واضح طور پر نظر آئیں گے۔دہلی میں بجلی کی فراہمی تین بڑی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے کی جاتی ہے، اس لیے سرچارج میں اضافے کا اثر بھی مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوگا۔ ٹاٹا پاور کے یوزر کو اپنے بجلی بل میں تقریباً ایک فیصد اضافی رقم ادا کرنی پڑ سکتی ہے، جب کہ بی ایس ای ایس کے مختلف علاقوں میں رہنے والے یوزرکو 2.5 سے 3.5 فیصد تک زیادہ بل ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ مارچ کے دوران جو 10 فیصد بقایا ایڈجسٹمنٹ وصول نہیں کی جا سکی تھی، اسے بھی جون کے بل میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس وجہ سے کئی صارفین کو توقع سے کہیں زیادہ بجلی بل موصول ہو سکتا ہے۔
فیول سرچارج میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر تجارتی اور صنعتی شعبوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بڑھتی لاگت دکانداروں، چھوٹے صنعتکاروں اور فیکٹری مالکان کے لیے نئی مشکلات پیدا کرے گی۔ ان کے مطابق بجلی کے اخراجات میں اضافہ براہِ راست کاروباری سرگرمیوں اور پیداواری لاگت پر اثر انداز ہوگا۔چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(سی ٹی آئی) کے چیئرمین برجیش گوئل نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو ایک خط لکھ کر اس فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرول باغ جیسے بڑے تجارتی مراکز میں متعدد دکانوں کے ماہانہ بجلی بل میں 4 سے 5 ہزار روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔کاروباری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی میں صنعتی اور تجارتی بجلی کی شرحیں پہلے ہی ہریانہ اور اتر پردیش کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اگر بجلی مزید مہنگی ہوتی ہے تو کچھ صنعتیں اپنے یونٹ دہلی سے باہر منتقل کرنے پر غور کر سکتی ہیں، کیونکہ پڑوسی ریاستوں میں بجلی اور مزدوری دونوں نسبتاً سستی ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق بجلی کی بڑھتی ہوئی لاگت صرف صنعتوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عام صارفین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ جب پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا بوجھ بالآخر یوزر پر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں منتقل ہو جاتا ہے، جس سے مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، دہلی میں بجلی کے نرخوں سے متعلق یہ فیصلہ عوام، تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے ایک نئی تشویش بن کر سامنے آیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے مہینوں میں یہ اضافی بوجھ عوامی بجٹ اور کاروباری سرگرمیوں کو کس حد تک متاثر کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




