Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31ویں بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی انہوں نے کرائی تھی۔ اس پر بھارت کے وزیرِ اعظم مودی کو بھی کھل کر اپنا مؤقف دینا چاہیے۔ ملک کسی بھی سیاسی جماعت سے بالاتر ہے۔

ایس جے شنکر نے اپوزیشن رہنماؤں کو ٹوکتے ہوئے کہا:"میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کان کھول کر سن لیں۔ 22 اپریل سے 16 جون تک، ایک بار بھی وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افراط زر کی صورتحال اطمینان بخش ہے، جو پالیسی سازوں کو کچھ گنجائش فراہم کرتی ہے۔"کور افراط زر دباؤ میں ہے، اور مجموعی افراط زر آر بی آئی کے 4 فیصد ہدف سے نیچے ہے، جو نرمی کے دورانیے کو جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔"

آئی ایم ایف کا کہنا تھا:"بھارت میں شرح نمو 2025-2026 (مالی سال 26) اور 2026-2027 (مالی سال 27) میں 6.4 فیصد متوقع ہے، دونوں تخمینے معمولی طور پر بڑھا دیے گئے ہیں، کیونکہ اپریل کے تخمینے کے مقابلے میں بیرونی حالات زیادہ سازگار ہیں۔"

سام سنگ اور موٹرولا جیسے دیگر برانڈز بھی اب بھارت سے امریکہ کو اسمارٹ فونز بھیج رہے ہیں، حالانکہ سام سنگ اب بھی ویتنام پر زیادہ انحصار کرتا ہے اور موٹرولا کی سپلائی چین کا بڑا حصہ چین میں موجود ہے۔

انوپریہ پٹیل نے بتایا کہ سب سے زیادہ جن اوشدھی کیندر اتر پردیش میں ہیں (3,550)، اس کے بعد کیرالہ (1,629)، کرناٹک (1,480) اور تمل ناڈو (1,432) میں ہیں۔

حکومت کا اندازہ ہے کہ 2030 تک ملک میں کل کوئلہ پیداوار کا ہدف 1.5 ارب ٹن تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کا مقصد درآمد پر انحصار کم کرتے ہوئے ملکی ضروریات کو مقامی ذرائع سے پورا کرنا ہے۔ آنے والے برسوں میں کوئلے کی پیداوار میں سالانہ 6-7 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

مقامی جنگلاتی حکام غیر قانونی طور پر کاٹے گئے درختوں کا تخمینہ لگاتے ہیں، اور متعلقہ ڈیٹا کو ریاستی حکومتوں / یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ ہدایات کے مطابق فاریسٹ آفسنس رجسٹرز میں درج کیا جاتا ہے۔

وزارت کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ عالمی کساد بازاری بھارت کی برآمدات کی طلب کو مزید کم کر سکتی ہے اور امریکی ٹیرف سے جڑی غیر یقینی صورتحال آنے والی سہ ماہیوں میں ملک کی تجارتی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس (DPI) ایک جامع انڈیکس ہے جو بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کی رسائی، قبولیت اور استعمال کی پیمائش کرتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر تین زمروں کی بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے: