Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


انڈونیشیا میں ایک اسلامی اسکول کی عمارت کا گر جانا افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ درجنوں طالب علم ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور ریسکیو ٹیمیں طالب علموں  جان بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ والدین کی دعائیں اور حکام کی کوششیں جاری ہیں، تاہم واقعے نے تعمیراتی نظام اور نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پیر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 28.2 ڈگری سیلسیس رہا، جو موسمی اوسط سے 4.7 ڈگری زیادہ تھا، جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اوسط سے 3.4 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہوا میں نمی کا تناسب 57 سے 76 فیصد کے درمیان درج کیا گیا۔

پی ایم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ کے ذریعے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:"پروفیسر وجے کمار ملہوترا ایک غیر معمولی رہنما تھے، جنہیں عوامی مسائل کی گہری سمجھ حاصل تھی۔

غزہ میں جاری شدید تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک جامع 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد نہ صرف جنگ بندی کروانا ہے بلکہ غزہ کی مستقبل کی حکمرانی اور انتظامی ڈھانچے کو بھی واضح کرنا ہے۔

منی پور، ناگا لینڈ اور آسام جیسے شمال مشرقی بھارتی ریاستوں میں لوگوں نے صبح کے وقت زمین کو ہلتے ہوئے محسوس کیا۔ اگرچہ اب تک کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن لوگ خوفزدہ ضرور ہو گئے۔ میانمار میں بھی فی الحال کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اس کامیابی کے بعد سوریا کمار یادو نے ایک اور قابل تعریف اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ٹورنامنٹ فیس بھارتی فوج اور پہلگام دہشت گرد حملے کے متاثرہ خاندانوں کو عطیہ کریں گے۔

پی ایم  نریندر مودی نے بھی اتوار کو 'من کی بات' ریڈیو پروگرام میں زوبین گرگ کو یاد کیا اور خراج عقیدت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جوبین گرگ کو آسام کی ثقافت سے گہرا لگاؤ تھا اور وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہیں گے۔

عہدے کے لحاظ سے رکن کے طور پر دھرمشیلا گپتا کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خاص مدعو ارکان کے طور پر ونود تاوڑے، دیپک پرکاش اور ناگیندر جی کے نام شامل ہیں۔

پی ایم مودی نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا: ’’بھارت اور اٹلی کے درمیان رشتہ محض معاہدوں یا تجارت پر نہیں بلکہ تہذیبی اقدارپرقائم ہے، جیسے ورثے کا تحفظ، سماج کی طاقت اور نسوانیت کو رہنمائی کے طور پر ماننا۔‘‘

دہلی میں پارٹی دفاتر کی تاریخ یاد کرتے ہوئے سچدیوانے کہا، "بی جے پی کی بنیاد کے بعد پہلا دفتر اجمیری گیٹ پر کھولا گیا تھا۔ بعد میں کچھ عرصہ رکاب گنج روڈ پر رہا اور پھر تقریباً 35 سال تک 14 پنڈت پنت مارگ پر قائم رہا۔