Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


جاپان کے موسمیاتی ادارے (JMA) اور پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ اس زلزلے کے بعد سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ اگرچہ زلزلے کا مرکز سمندر کے اندر تھا، لیکن 50 کلومیٹر کی گہرائی کی وجہ سے سونامی کے خطرے کو کم سمجھا گیا ہے۔

یو پی اور بہار میں موسم پھر سے خراب ہو گیا ہے۔ مانسون کا اختتام قریب ہے، مگر بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش سے لوگوں کو امس سے کچھ راحت ملی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور کل یو پی کے کئی اضلاع میں تیز بارش کی توقع ہے،

سونم وانگ چک کو 24 ستمبر کو لیہہ میں ہوئی پرتشدد جھڑپوں کے بعد 26 ستمبر کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت گرفتار کر کے راجستھان کی جودھپور جیل بھیجا گیا تھا۔ وہ اس وقت سے حراست میں ہیں۔

بھارت کی 99 فیصد برآمدات پر برطانیہ میں درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے،یہ فیصلہ دو طرفہ تجارت کی تقریباً 100 فیصد مالیت پر اثر انداز ہوتا ہے،معاہدے سے بھارت کو بڑے پیمانے پر اقتصادی اور تجارتی فائدے کی امید ہے۔

حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور الٹا یورپی یونین پر جارجیا میں تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ Prime Minister Bidzina Ivanishvili نے کہا کہ یورپی حامی مظاہرین نے نہ صرف صدارتی محل میں گھسنے کی کوشش کی بلکہ محل کے باہر موجود بیری کیڈز کو آگ بھی لگا دی۔

نئی دہلی: مالیہ وزیر نرملہ سیتا رامن نے جمعہ کو بھارت کو ایک “مستحکم قوت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت میں بے یقینی کے باوجود بھارت نے اپنے آپ کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور عدم توازن بین الاقوامی نظام کی …

شمال مشرق کی بڑھتی ہوئی ریلوے کنیکٹیویٹی سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے سالوں میں اس خطے میں مزید سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع میسر آئیں گے، جو ملک کی ترقی اور اتحاد کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

یہ تعلیمی ماڈیولز نہ صرف طلباء میں ملک پرستی اور خود انحصاری کے جذبے کو پروان چڑھائیں گے بلکہ انہیں تحقیق، جدت اور ملکی صنعتوں کی ترقی کے لیے بھی متحرک کریں گے۔ اس طرح ‘سودیشی’ تحریک ایک نئی زندگی حاصل کر کے بھارت کے مستقبل کے لیے امید کی کرن بن گئی ہے۔

ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کا استعمال صرف لین دین کو آسان بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ علم و تحقیق میں بھارت کی خود کفالت اور عالمی سطح پر قیادت کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو نہ صرف تحقیق کی راہیں کھولے گا، بلکہ بھارت کے مستقبل کی بنیاد بھی رکھے گا۔

یہ منصوبہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ بھارت کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ جدید تحقیق کو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کر کے ایک خود کفیل اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔