Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


ارجن رام میگھوال نے کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے دور حکومت میں آئین کا استعمال اقتدار بچانے کے لیے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران اُس وقت کی حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے آئین میں کئی تبدیلیاں کیں۔

گفتگو کے دوران اپیندر رائے نے ہائی کورٹ کے ججوں کی ریکارڈ تقرری کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ اس کے جواب میں ارجن رام میگھوال نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ججوں کی تقرری کولیجیم سسٹم کے تحت کی جاتی ہے۔

سی آر پاٹل نے کہا کہ “نل سے جل” اسکیم سے تقریباً 9 کروڑ خواتین کو روزانہ پانی لانے کی مشقت سے نجات ملی ہے۔ پہلے انہیں دور دراز جانا پڑتا تھا اور اکثر آلودہ پانی پینا پڑتا تھا جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گندے پانی کے باعث ملک میں تقریباً 8.4 لاکھ کروڑ روپے تک طبی اخراجات ہوتے تھے۔ اب خواتین کا وقت بچ رہا ہے اور وہ بچوں کی تعلیم اور دیگر معاشی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دے سکتی ہیں۔

اَٹھاولے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا ایجنڈا ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں صرف ہنگامہ آرائی میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے کام کرنا ہے۔

روی کشن نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر میں اب تک تقریباً 750 فلموں میں کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل انتظار اور مسلسل محنت کے بعد آج ان کی فلم “لاپتا لیڈیز” آسکر کے اسٹیج تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے 37 سال کی جدوجہد اور صبر شامل ہے۔

کے سی تیاگی نے بتایا کہ جنتا پارٹی کے قیام کے وقت اٹل بہاری واجپائی اور چودھری چرن سنگھ کے درمیان خطوط کے ذریعے رابطہ ہوتا تھا اور انہی خطوط کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں وہ ایک چھوٹے سے “ڈاکیا” کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

کے سی تیاگی نے بتایا کہ اس کے باوجود وہ اکثر اٹل بہاری واجپائی کی تقریریں سننے کے لیے ان کے جلسوں میں جایا کرتے تھے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ “وہ میرے دل کے لیڈر تھے، چاہے وہ میری پارٹی کے نہ ہوں”۔

منوج گوڑکے مطابق اب حکومت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا وژن ایک سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور آئندہ دس برسوں میں اس شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں عمارتوں کے ڈیزائن بدلیں گے،

سدھانشو ترویدی نے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال کمزور تھی اور صنعت کاری پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی تھی، لیکن موجودہ دور میں ترقیاتی منصوبوں اور صنعتی سرگرمیوں نے اتر پردیش کی تصویر بدل دی ہے۔

اس موقع پر بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سدھانشو ترویدی نے کئی اہم موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا۔