Bharat Express DD Free Dish

Abul Kalam




Bharat Express News Network


آئی پی ایل 2026 کے 34ویں میچ میں جمعہ کو گجرات ٹائٹنز کا مقابلہ رائل چیلنجرز بنگلور سے ہوا۔ ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں جی ٹی کے بلے باز سائی سدرشن نے تاریخ رقم کر دی۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور وسیع بی ٹی اے (BTA) کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے واشنگٹن میں امریکی ہم منصب کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی، جسے وزارتِ تجارت و صنعت نے معاہدے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے جمعہ کے روز عام آدمی پارٹی (AAP) چھوڑنے والے ارکانِ پارلیمنٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی  ہمیشہ سے پنجاب مخالف رہی ہے اور ریاست کے لوگ غداروں کو سبق سکھائیں گے۔

چھتیس گڑھ کے کوردھا میں ایک شوہر اپنی کینسر سے متاثرہ بیوی کو موٹر سائیکل پر لٹا کر کلیکٹریٹ پہنچا، علاج کے لیے مدد کی اپیل کی مگر خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔

وزیر اعظم نریندر مودی جولائی میں آسٹریلیا کے دورے پر جا سکتے ہیں۔ یہ سفر ان کے وسیع علاقائی دورے کا حصہ ہوگا، جس کے تحت وہ پہلے انڈونیشیا اور پھر نیوزی لینڈ بھی جائیں گے۔

ٹی سی ایس ناسک واقعہ سے متعلق ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے۔ پی۔ سی۔ آر) مہاراشٹر نے ممبئی پریس کلب میں پریس کانفرنس کا انعقاد کرکےاپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی۔

عام آدمی پارٹی (AAP) کو جمعہ کے روز بڑا جھٹکا دیتے ہوئے راجیہ سبھا  کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا نے سندیپ پاٹھک اور اشوک مِتّل سمیت کئی ارکان کے ساتھ پارٹی چھوڑنے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

راگھو چڈھا اور اشوک مِتّل سمیت ‘عآپ’ کے دو تہائی ارکانِ پارلیمنٹ نے بغاوت کرتے ہوئے پارٹی قیادت کو بڑا جھٹکا دیا۔ اس پیش رفت سے اروند کیجریوال کی سیاسی گرفت کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے اور راجیہ سبھا کے سیاسی توازن میں بھی تبدیلی آ گئی ہے۔

پالی کے کمبھل گڑھ وائلڈ لائف سینکچری میں بھیانک آگ چوتھے دن بھی بے قابو ہے۔ نلوآنیا باندھ اور آس پاس کی پہاڑیاں آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ بجھانے میں دشواری ہو رہی ہے اور جنگلی جانوروں کی زندگی پر شدید خطرہ منڈلا رہا ہے۔

آئی آئی ٹی روڑکی میں 24 سے 26 اپریل 2026 تک منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس “ویژن 2047: خوشحال اور عظیم بھارت 2.0” میں تعلیم، روزگار اور خود انحصاری پر گہری بحث ہوئی۔ پروفیسر (ڈاکٹر) رچنا نے اپنے تجربات شیئر کیے اور نئی تعلیمی پالیسی پر اپنے خیالات پیش کیے۔