قومی دارالحکومت دہلی میں ایک بار پھر فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس بار معاملہ معروف پنجابی گلوکار گرو رندھاوا سے جڑا بتایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی ملکیت والے ایک جم کے باہر نامعلوم افراد نے کئی راؤنڈ فائرنگ کی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی مقامی لوگ گھروں اور دکانوں کے اندر چلے گئے، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہوا مبینہ دعویٰ
فائرنگ کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر ایک مبینہ پوسٹ اور آڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہونے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس حملے کے پیچھے لارنس بشنوئی گینگ کا ہاتھ ہے۔ تاہم اب تک اس دعوے کی کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ وائرل آڈیو میں مبینہ طور پر گینگ سے وابستہ ایک شخص کی آواز سنائی دیتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گرو رندھاوا کی بالی ووڈ اداکار سلمان خان سے قربت کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ آڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یہ صرف ایک ’ٹریلر‘ ہے، جس سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
پولیس ہر پہلو سے تحقیقات میں مصروف
دہلی پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اپنے قبضے میں لے لی ہے اور حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے مقصد کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو اور پوسٹس کی بھی تکنیکی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ واقعے کے پیچھے واقعی مذکورہ گینگ ہے یا پھر کسی نے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اس کا نام استعمال کیا ہے۔
کئی سوالات کے جواب تلاش کیے جا رہے ہیں
تحقیقاتی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ محض دھمکی دینے کی کوشش تھا یا کسی بڑے تنازع کا حصہ۔ سیکیورٹی ایجنسیاں ہر پہلو سے معاملے کی چھان بین کر رہی ہیں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام شواہد کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ فی الحال وائرل دعوؤں کی صداقت ثابت نہیں ہوئی ہے، اس لیے تحقیقات مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ اس واقعے نے دہلی میں ایک بار پھر سیکیورٹی اور گینگسٹر نیٹ ورکس کے بڑھتے اثر و رسوخ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


