Bharat Express DD Free Dish

Abdul Awwal




Bharat Express News Network


پولیس کے مطابق ایک ملزم کی تعلیمی قابلیت انتہائی کم تھی اور وہ مبینہ طور پر صرف ساتویں جماعت تک پڑھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود وہ کلینک چلا کر لوگوں کا علاج کر رہا تھا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران کلینک کو سیل کر دیا۔

زلزلہ صبح 4 بج کر 58 منٹ پر آیا اور اس کا مرکز زمین سے 15 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلے کے بعد سمندر میں تقریباً ایک میٹر بلند سونامی لہریں بھی ریکارڈ کی گئیں، تاہم سونامی کی وارننگ تقریباً تین گھنٹے بعد واپس لے لی گئی۔

ہندوستان کی کامیابی میں کپتان ہرمن پریت سنگھ کا کردار سب سے نمایاں رہا، جنہوں نے پنالٹی کارنر پر دو شاندار گول کیے۔ اس سے قبل سنجے رانا نے ہندوستان کے لیے پہلا گول کرکے ٹیم کو برتری دلائی تھی۔

حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پرمتاثرہ اور قریبی علاقوں سے 900 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری احکامات پر عمل کریں اور کسی بھی خطرناک علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ ان کے لیے 15 اگست صرف جشن منانے کا دن نہیں بلکہ شکرگزاری کا موقع بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی بڑی تبدیلی قربانی اور صبر کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔

ملک کے دیگر حصوں کے طلبہ نے وزیر اعظم کے اعلان کو سراہا ہے، موجودہ دور میں معیاری تعلیم اور کوچنگ حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، ایسے میں مفت آن لائن کوچنگ طلبہ کے لیے ایک مؤثر سہولت ثابت ہوسکتی ہے۔

مہتو نے واضح کیا کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرائیں گے اور پرامن طریقے سے اپنی بات رکھتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی عوام کے حقوق اور انصاف کے لیے ہے اور پولیس کی کارروائی سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وندے ماترم‘ آزادی کی تحریک کا ایک پرجوش نعرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 80 سال بعد لال قلعہ کی فصیل سے اس کا مکمل ورژن سننا انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔

رسمی پروگرام ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نے قافلہ رکوا کر نوجوان شرکا کے درمیان جانے کا فیصلہ کیا اور پیدل ان کی جانب بڑھے۔ وزیر اعظم کو اپنے درمیان دیکھ کر بچوں میں خاصا جوش و خروش دیکھا گیا۔ کئی بچوں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر ان کا استقبال کیا۔

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ آج کا نوجوان تقریباً 30 سال بعد عمر رسیدہ ہو جائے گا، اس لیے اسے صرف اپنے مستقبل کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان صرف ذاتی مفادات تک محدود ہو گئے اور معاشرے سے دور ہو گئے تو ملک کی نوجوان آبادی کی طاقت ہی مستقبل میں ایک چیلنج بن سکتی ہے۔