نئی دہلی: ملک میں پانی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب تعلیمی سطح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کے تحت اسکولوں کے نصاب میں پانی سے متعلق موضوعات کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں واٹر مینجمنٹ اور واٹر گورننس سے متعلق مختلف کورسز شروع کرنے پر بھی زور دیا جائے گا۔ نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی آر پاٹل نے کہا کہ پانی اور دریاؤں سے متعلق مسائل کو صرف سرکاری منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں تعلیم سے بھی جوڑنا ضروری ہے۔ اس سے طلبہ میں پانی کے تحفظ اور انتظام سے متعلق سمجھ پیدا ہوگی اور مستقبل میں اس شعبے کے لیے تربیت یافتہ ماہرین کی مضبوط افرادی قوت تیار کی جا سکے گی۔
دریاؤں کے انتظام کے لیے تیار کیے جائیں گے ماہرین
مرکزی وزیر کے مطابق دریا مینجمنٹ اب صرف صفائی یا سیوریج کے انتظام تک محدود موضوع نہیں رہا۔ اس میں ماحولیات، سماج، ثقافت، معیشت اور پالیسی سے جڑے کئی پہلو شامل ہیں۔ ایسے میں ان تمام شعبوں کی سمجھ رکھنے والے ماہرین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ شہروں اور ریاستوں میں دریاؤں سے متعلق پیشہ ور افراد اور طلبہ کے لیے خصوصی کورسز کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ان کورسز کو مکمل کرنے والے نوجوانوں کو مقامی سطح پر دریا تحفظ اور انتظام سے متعلق کاموں میں مواقع فراہم کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں مرکزی حکومت نے ’نمامی گنگے‘ پروگرام کے تحت جاری کاموں کا بھی جائزہ لیا۔ سی آر پاٹل نے دریاؤں کی جامع بحالی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سمت میں مختلف سطحوں پر جاری کاموں میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔
سیوریج سے زیرِ زمین پانی تک، کئی اہم امور پر غور
دریاؤں کو صاف اور صحت مند بنانے کے لیے اجلاس میں متعدد اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان میں بہتر سیوریج انفرااسٹرکچر تیار کرنا، سائنسی طریقے سے آبی وسائل کا انتظام، صاف کیے گئے گندے پانی کا محفوظ دوبارہ استعمال، زیرِ زمین پانی کا بہتر انتظام اور ویٹ لینڈز کا تحفظ شامل ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی نظام پر مبنی حل کو فروغ دینے اور مرکزی، ریاستی و مقامی سطح پر تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان تال میل مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ سرکاری معلومات کے مطابق اجلاس میں سیوریج منصوبوں، تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR)، زمین کی دستیابی اور ٹریٹ کیے گئے گندے پانی کے دوبارہ استعمال کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ایکویفر میپنگ، ویٹ لینڈز، سٹی سینیٹیشن ایکشن پلان، ایریل ڈرینیج میپنگ اور ریاستی گنگا کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاسوں سے متعلق پیش رفت کی بھی معلومات لی گئیں۔
بہار اور مغربی بنگال کے منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ
اجلاس میں برونی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ترمیم شدہ ڈی پی آر موصول ہونے کی اطلاع دی گئی۔ اسے جائزے کے لیے آئی آئی ٹی-بی ایچ یو بھیجا گیا ہے۔ وہیں مغربی بنگال کے شانتی پور ایس ٹی پی کی ڈی پی آر کو ایگزیکٹو کمیٹی سے منظوری مل چکی ہے۔ ٹریٹ کیے گئے گندے پانی کے استعمال کے حوالے سے بہار اور مغربی بنگال اپنی پالیسیاں نوٹیفائی کر چکے ہیں، جبکہ جھارکھنڈ میں اس پالیسی کو ریاستی کابینہ سے منظوری دلانے کا عمل جاری ہے۔
’نمامی گنگے‘ کے تحت 527 منصوبوں کو منظوری
اجلاس میں ’نمامی گنگے‘ پروگرام کی مجموعی پیش رفت کے ساتھ مالی سال 26-2025 کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اگست 2026 تک اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 43,266 کروڑ روپے کی لاگت والے 527 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 368 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ صرف سیوریج انفرااسٹرکچر کی بات کریں تو 219 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان کے ذریعے 6,603 ایم ایل ڈی کی سیوریج ٹریٹمنٹ صلاحیت اور 5,245 کلومیٹر طویل سیور نیٹ ورک تیار کرنے کا ہدف ہے۔ اب تک 147 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے 4,339 ایم ایل ڈی کی سیوریج ٹریٹمنٹ صلاحیت اور 4,615 کلومیٹر طویل سیور نیٹ ورک تیار ہو چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



