Bharat Express DD Free Dish

Water Security

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی آر پاٹل نے کہا کہ پانی اور دریاؤں سے متعلق مسائل کو صرف سرکاری منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں تعلیم سے بھی جوڑنا ضروری ہے۔ اس سے طلبہ میں پانی کے تحفظ اور انتظام سے متعلق سمجھ پیدا ہوگی اور مستقبل میں اس شعبے کے لیے تربیت یافتہ ماہرین کی مضبوط افرادی قوت تیار کی جا سکے گی۔

پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل سامنے آ رہا ہے جو وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے لیے مفید سبق پیش کرتا ہے۔ آبی تحفظ صرف بنیادی ڈھانچہ بنانے کے بارے میں نہیں، بلکہ اچھی منصوبہ بندی، مضبوط مقامی نظام اور پانی کے انتظام میں برادریوں کو شامل کرنے کے بارے میں بھی ہے۔‘

امت شاہ نے کہا کہ حکومت ال نینو کے باعث معمول سے کم بارش اور بعض علاقوں میں ممکنہ خشک سالی کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے وزارت زراعت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں اور کسانوں کو موسمی حالات کے مطابق مناسب فصلوں کی بوائی کے بارے میں بروقت مشورے فراہم کریں۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پیشگی تیاری حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور کسی بھی وزارت یا محکمے کے درمیان رابطے میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مانسون کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے گی اور بارش کے رجحانات اور متعلقہ وزارتوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر بروقت فیصلے کیے جائیں گے۔

پاکستان کو پہلے ہی پانی کے بحران کا سامنا ہے اور دریائے سندھ پر بھارت کے اقدام نے اس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب بھارت کا دریائے چناب پر کنٹرول بڑھانے کا منصوبہ پاکستان کے حالات مزید خراب کر سکتا ہے۔