امریکا نے جمعرات کو ایک بڑا اور چونکا دینے والا فیصلہ کرتے ہوئے انفوسس، ٹی سی ایس، وِپرو، ایچ سی ایل، کاگنیزنٹ، کیپ جیمنائی، مائیکروسافٹ اور ایڈوب سمیت 8 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پی ای آر ایم یعنی پرمننٹ لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے ان کمپنیوں میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین، خاص طور پر ایچ-1 بی ویزا رکھنے والے پروفیشنلز کے روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ اس فیصلے کا اعلان امریکی لیبر سکریٹری کیتھ سونڈرلنگ نے کیا۔ اعلان کے دوران اینٹی فراڈ ٹاسک فورس کے سربراہ اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔ امریکی انتظامیہ نے اس اقدام کو امریکی روزگار بازار اور مقامی کارکنوں کے مفادات کے تحفظ سے متعلق اہم قدم قرار دیا ہے۔
کن 8 کمپنیوں کے خلاف کارروائی ہوئی؟
امریکی لیبر سکریٹری کے مطابق دنیا کی کئی بڑی آئی ٹی اور آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کو پرمننٹ لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام سے باہر کیا جا رہا ہے۔ ان میں کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وِپرو، ایچ سی ایل اور کیپ جیمِنائی کے علاوہ مائیکروسافٹ اور ایڈوب بھی شامل ہیں۔ امریکی حکومت کے اس فیصلے سے ان کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی ملازمین کو مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ کے لیے اسپانسر کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ
امریکی انتظامیہ کے مطابق اب ان کمپنیوں سے متعلق نئے اور پہلے سے زیر التوا پرمننٹ لیبر سرٹیفیکیشن کی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ اس کا اثر ان ملازمین پر پڑ سکتا ہے جو روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل میں آگے بڑھنے کی امید کر رہے تھے۔ سونڈرلنگ کے مطابق، 2009 سے اب تک ان کمپنیوں نے تقریباً 30 لاکھ غیر ملکی ملازمین کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔ اسی عرصے میں ان کمپنیوں سے وابستہ 2.30 لاکھ سے زیادہ ایچ-1 بی ویزے منظور کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد پرمننٹ لیبر سرٹیفیکیشن بھی جاری کیے گئے۔
امریکی کارکنوں کے مفادات کا دیا گیا حوالہ
امریکی لیبر سکریٹری نے الزام عائد کیا کہ بڑی تعداد میں غیر ملکی ملازمین کی بھرتی سے مقامی امریکی شہریوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کی وجہ سے لاکھوں ملازمتیں امریکی کارکنوں کی پہنچ سے باہر چلی گئیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ای آر ایم کے عمل کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی ملازم کو مستقل ملازمت دینے سے پہلے امریکی کارکنوں کے مفادات کا مناسب تحفظ کیا جائے۔
آخر پی ای آر ایم پروگرام کیا ہے؟
پی ای آر ایم یعنی پرمننٹ لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام امریکی محکمہ لیبر کا ایک اہم عمل ہے۔ اس کے تحت کوئی امریکی کمپنی کسی غیر ملکی ملازم کو مستقل ملازمت دینے سے پہلے لیبر سرٹیفیکیشن حاصل کرتی ہے۔ اس سرٹیفیکیشن کے ذریعے یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ متعلقہ عہدے کے لیے کافی تعداد میں اہل، خواہش مند اور دستیاب امریکی کارکن موجود نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ غیر ملکی ملازم کی تقرری سے امریکی کارکنوں کی تنخواہوں یا کام کے حالات پر منفی اثر نہ پڑے۔
گرین کارڈ کے عمل میں پی ای آر ایم کیوں اہم ہے؟
لیبر ڈیپارٹمنٹ سے سرٹیفیکیشن ملنے کے بعد آجر امریکی شہریت اور امیگریشن سروس یعنی یو ایس سی آئی ایس کے پاس امیگرنٹ پٹیشن دائر کر سکتا ہے۔ عام طور پر اس عمل کو فارم آئی-140 کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ ایچ-1 بی ویزا رکھنے والے ملازمین کے لیے روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل میں پی ای آر ایم کو ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اس پروگرام تک رسائی رکنے سے اہل غیر ملکی ملازمین کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید پیچیدہ اور طویل ہو سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کو کس بات کی تشویش ہے؟
پی ای آر ایم نظام کا بنیادی مقصد امریکی کارکنوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ موجودہ قواعد کے مطابق کسی غیر ملکی ملازم کو اسپانسر کرنے سے پہلے کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ متعلقہ عہدے کے لیے کوئی اہل امریکی امیدوار دستیاب نہیں ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ آجر اس عمل میں مبینہ طور پر ہیرا پھیری کرنے یا قواعد کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کاغذات پر یہ ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ کسی عہدے کے لیے موزوں امریکی امیدوار موجود نہیں ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔
تحقیقات میں بھی سامنے آ چکی ہیں خامیاں
امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے انسپکٹر جنرل نے بھی پی ای آر ایم نظام میں کئی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں مبینہ جعلی درخواستیں، مطلوبہ دستاویزات کی کمی اور سرٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد نگرانی کے نظام میں خامیاں شامل ہیں۔ ان ہی خدشات کے درمیان امریکا نے یہ نیا قدم اٹھایا ہے۔ اس فیصلے کا خاص طور پر بھارتی آئی ٹی کمپنیوں اور ان سے وابستہ ہزاروں غیر ملکی پروفیشنلز پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



