دہلی کی خراب ہوتی فضائی آلودگی اب صرف موسم یا روزمرہ زندگی میں پریشانی کا معاملہ نہیں رہی، بلکہ یہ بچوں کی صحت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال دیوالی کے موقع پر پٹاخوں کے استعمال کے بعد فضائی آلودگی میں خطرناک طور اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود کئی پابندیوں اور اقدامات کے بعد بھی حالات میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ 6 نومبر کو سپریم کورٹ نے فضائی آلودگی اور پٹاخوں کے استعمال پر سماعت کے دوران عوامی بیداری اور اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔
سپریم کورٹ نے عوامی شمولیت پر دیا زور
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صرف عدالتی احکامات جاری کرنا کافی نہیں ہے۔ جب تک عام شہری خود اس مہم کا حصہ نہیں بنیں گے، اس وقت تک حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔ عدالت نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مقامی اداروں کو بھی ہدایت دی کہ کونسلروں اور عوامی نمائندوں کی مدد سے لوگوں میں بیداری پیدا کی جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بار بار پابندیاں عائد کرنے سے بعض اوقات لوگ قوانین کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں پٹاخوں سے پاک دیوالی کو ایک سماجی تحریک بنانے کی ضرورت ہے۔
آلودگی سے بچوں کے پھیپھڑوں کو کتنا نقصان؟
دہلی میں فضائی آلودگی کے بچوں کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی ایک اہم تحقیق سے لگایا جا سکتا ہے۔ سال 2012 میں کی گئی اس تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ دہلی کے 43.5 فیصد اسکولی بچوں کے پھیپھڑوں کی صلاحیت معمول سے کم تھی۔ اس کے مقابلے میں دہلی سے باہر رہنے والے بچوں میں یہ شرح 25.7 فیصد درج کی گئی تھی۔ اگرچہ یہ تحقیق کئی سال پرانی ہے، لیکن اس کے نتائج فضائی آلودگی کے صحت پر پڑنے والے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کا نظام تنفس آلودہ ہوا سے کس قدر متاثر ہوسکتا ہے، اس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔
5,671 بچوں کی جانچ میں سامنے آئے چونکا دینے والے نتائج
’دہلی میں فضائی معیار، سانس کی علامات اور بچوں کے پھیپھڑوں کی کارکردگی‘ کے عنوان سے کی گئی اس تحقیق میں 9 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس دوران دہلی کے 5,671 اور دیگر علاقوں کے 2,245 بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق دہلی کے 20.3 فیصد بچوں میں سانس لینے اور خارج کرنے کی صلاحیت سے متعلق مسائل پائے گئے، جبکہ 13.6 فیصد بچوں میں سانس کی نالیوں سے جڑی پریشانیاں سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ 9.6 فیصد بچوں میں دونوں طرح کی شکایات درج کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آلودہ ہوا بچوں کے نظام تنفس کو متاثر کر رہی ہے۔
لڑکیوں کے پھیپھڑوں پر آلودگی کا زیادہ اثر
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ آلودگی کا اثر لڑکیوں پر نسبتاً زیادہ پڑا۔ دہلی میں 51 فیصد لڑکیوں کے پھیپھڑوں کی صلاحیت معمول سے کم پائی گئی، جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 39.8 فیصد تھی۔ اسی طرح پھیپھڑوں سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد بھی دہلی میں زیادہ تھی۔ دارالحکومت میں ایسے بچوں کی شرح 7.3 فیصد تھی، جبکہ دیگر علاقوں میں یہ صرف 2.2 فیصد درج کی گئی۔ موسم کے اعتبار سے دیکھا جائے تو برسات کے دوران 39.9 فیصد بچوں کے پھیپھڑوں کی صلاحیت کم پائی گئی، جبکہ سردی اور گرمی کے موسم میں یہ شرح بڑھ کر 52.7 فیصد تک پہنچ گئی۔
پابندیوں کے باوجود آلودگی پر قابو کیوں نہیں؟
دہلی این سی آر میں پٹاخوں کی فروخت اور استعمال پر وقتاً فوقتاً پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ سال 2018 میں سپریم کورٹ نے روایتی پٹاخوں کی فروخت پر روک لگاتے ہوئے صرف گرین پٹاخوں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس کے باوجود ہر سال دیوالی کے دوران فضائی آلودگی میں اضافہ تشویش کا باعث بنتا ہے۔
عدالت نے تسلیم کیا کہ پٹاخے آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں
2 نومبر 2026 کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ سال 2024 میں مکمل پابندی کے باوجود دہلی این سی آر کے فضائی معیار کے اشاریے (اے کیو آئی) میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ حکومتیں اور ایجنسیاں ایسے خاطر خواہ اعداد و شمار پیش نہیں کرسکیں، جن سے یہ واضح ہو کہ مکمل پابندی کا حقیقی اثر کتنا ہوا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ پٹاخے آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن صرف پابندی عائد کرنے سے اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں ہے۔
گرین پٹاخے بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں
فضائی آلودگی کم کرنے کے مقصد سے سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل کے تحت کام کرنے والے ادارے سی ایس آئی آر نیری نے گرین پٹاخے تیار کیے تھے۔ ان میں ایسے کیمیائی اجزا استعمال کیے جاتے ہیں جن سے روایتی پٹاخوں کے مقابلے میں کم آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ ادارے کے مطابق گرین پٹاخوں سے خارج ہونے والے باریک ذرات کی مقدار میں کم از کم 30 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ بعض مخصوص اقسام میں پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے اخراج میں اس سے بھی زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گرین پٹاخے مکمل طور پر آلودگی سے پاک نہیں ہوتے۔ ان کے استعمال سے بھی ہوا میں نقصان دہ ذرات خارج ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کے استعمال کے لیے مقررہ وقت اور دیگر ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔
حکومتوں کے سامنے اصل چیلنج کیا ہے؟
مرکزی حکومت نے دسمبر 2024 میں پارلیمنٹ میں تسلیم کیا تھا کہ دہلی این سی آر میں فضائی آلودگی کسی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتی۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی سرگرمیاں، تعمیراتی کام، کچرا جلانا اور پرالی کا دھواں اس کے اہم اسباب ہیں۔ اس کے علاوہ سردیوں میں درجہ حرارت میں کمی، ہوا کی رفتار کم ہونے اور فضا میں نمی بڑھنے کے باعث آلودگی کے ذرات زمین کے قریب جمع رہتے ہیں، جس سے فضائی معیار مزید خراب ہوجاتا ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کو یہ بھی بتایا تھا کہ 11 نومبر 2024 کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد دہلی پولیس کو پٹاخوں پر پابندی نافذ کرانے کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے باوجود اگر بازاروں میں عام پٹاخے فروخت ہوتے ہیں تو پابندیوں پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔ سپریم کورٹ کا بھی یہی موقف ہے کہ فضائی آلودگی کے خلاف جدوجہد صرف تہواروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ دیوالی گزرنے کے بعد بھی مسلسل نگرانی، قوانین پر سختی سے عمل اور عوامی بیداری کی مہم جاری رکھنا ضروری ہے۔ اسی اجتماعی کوشش سے دہلی کی ہوا کو بہتر بنانے اور آنے والی نسلوں کی صحت کو محفوظ رکھنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


