نئی دہلی: قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں فضائی آلودگی کی سنگین صورت حال سے متعلق ایک عرضی پر جمعہ کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دہلی کے موسم اور آلودگی کے حوالے سے طنزیہ تبصرہ کیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے سماعت کے آغاز میں کہا، ’’امید ہے کہ آپ سبھی دہلی کے موسم کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔‘‘ اس دوران عدالت نے پرالی جلانے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی اور امیر طبقے کی مہنگی گاڑیوں کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔
پرالی جلانے کے اثرات اور انتظامات پر زور
سماعت کے دوران سینئر وکیل اور عدالت کی معاون اپراجتا سنگھ نے بتایا کہ دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح اب بھی ’سنگین‘ زمرے کے آس پاس ہے اور خراب ہوا کا اثر ان کی آواز پر بھی پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی آلودہ ہوا میں سانس لینا روزانہ 30 سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ اپراجیتا سنگھ کے مطابق دہلی کی آلودگی میں پرالی جلانے کا حصہ تقریباً 14 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پہلے ہی آلودگی سے متاثر ہے اور کھیتوں میں پرالی جلانے کے واقعات صورت حال کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پرالی جلانے اور مقامی سطح پر ہونے والی آلودگی، مثلاً کچرا جلانے، کو روکنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
صرف پرالی نہیں، گاڑیوں کا دھواں بھی ذمہ دار
عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا فضائی آلودگی کی اس سنگین صورت حال کے لیے صرف پرالی جلانا ہی ذمہ دار ہے یا گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کا بھی اس میں بڑا کردار ہے۔ بنچ نے کہا کہ پرالی کے مسئلے پر مسلسل بات ہوتی رہی ہے اور اسے روکنے کے لیے آلات بھی فراہم کیے گئے ہیں، لیکن امیر طبقے کی گاڑیوں اور مہنگی کاروں کے استعمال کا کیا ہوگا، جو سڑکوں پر مسلسل چلتی رہتی ہیں۔ اس پر اپراجیتا سنگھ نے کہا کہ دہلی اور قومی راجدھانی خطے میں آلودگی کا ایک اہم ذریعہ ٹرانسپورٹ ہے۔ چیف جسٹس نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں آلودگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اور این سی آر کو جوڑنے والی سڑکوں پر گاڑیوں کی بمپر ٹو بمپر آمد و رفت سے مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
حکومت نے آلودگی روکنے کے اقدامات سے آگاہ کیا
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے عدالت کو بتایا کہ دہلی میں صرف بھارت اسٹیج-6 (بی ایس-6) معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل سے چلنے والے رکشوں کو مرحلہ وار ہٹانے اور دوسرے شہروں سے دہلی آنے والی بسوں کے لیے سخت ضابطے نافذ کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ سماعت کے دوران تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ سپریم کورٹ جتنے زیادہ احکامات جاری کرے گی، ان پر عمل نہ ہونے کے واقعات بھی اتنے ہی بڑھیں گے۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ اس معاملے کی سماعت تین رکنی بنچ نے کی، جس میں چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کے علاوہ جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

