Bharat Express DD Free Dish

Notice Movie Review: ایک سو پچاس سال پرانی دکان پر سرکاری نوٹس، نظام سے ٹکرائے ارون گوول

’نوٹس‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سماجی موضوع اور ارون گوول و دیپیکا چکھلیا کی جوڑی ہے۔ فلم سرکاری نظام کی من مانی اور عام آدمی کی بے بسی پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس کے مکالمے بھی کئی مقامات پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔تاہم، فلم کی سست رفتار کچھ ناظرین کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ تیز رفتار کہانی اور مسلسل سنسنی کی توقع رکھنے والے ناظرین کو یہ فلم کچھ طویل محسوس ہو سکتی ہے۔

بدعنوان سرکاری نظام، بااثر لوگوں کی من مانی اور ان کے درمیان پسنے والا ایک عام انسان۔ یہ کہانی اگرچہ پردے پر کئی بار دکھائی جا چکی ہے، لیکن اس کی حساسیت آج بھی برقرار ہے۔ اسی سماجی مسئلے کو موضوع بنا کر فلم ’نوٹس‘ ناظرین کے سامنے آئی ہے۔ ارون گوول اور دیپیکا چکھلیا کی یہ فلم 6 نومبر 2026 کو ویوز او ٹی ٹی پر ریلیز ہوئی ہے۔ تقریباً چار دہائیوں بعد دونوں فنکار ایک ساتھ اسکرین پر نظر آ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا فلم ’نوٹس‘ اپنی کہانی اور اداکاری کے ذریعے ناظرین کا دل جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے؟

کیا ہے فلم کی کہانی؟

فلم کی کہانی نارائن گپتا (ارون گوول) کے گرد گھومتی ہے۔ نارائن ایک ایماندار اور خوددار بزرگ ہیں، جن کے پاس 150 سال پرانی آبائی دکان ہے۔ یہ دکان ان کے لیے محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ خاندانی وراثت، یادوں اور عزت و وقار کی علامت بھی ہے۔لیکن ان کی زندگی میں اس وقت بھونچال آ جاتا ہے، جب سرکاری محکمے کی جانب سے دکان خالی کرنے اور اسے منہدم کرنے کا نوٹس جاری کر دیا جاتا ہے۔ ترقی کے نام پر شروع ہونے والی یہ کارروائی رفتہ رفتہ ایک عام انسان اور طاقتور سرکاری نظام کے درمیان جدوجہد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔نارائن گپتا اور ان کی اہلیہ اس فیصلے کے خلاف عدالت سے لے کر سرکاری دفاتر تک کے چکر لگاتے ہیں۔ ایک طرف اپنی آبائی دکان کو بچانے کی ضد ہے تو دوسری جانب اثر و رسوخ اور سرکاری طاقت کے سامنے بے بس ہوتا ایک خاندان۔ کیا نارائن اس نظام کے خلاف اپنی لڑائی جیت پائیں گے؟ فلم کی کہانی اسی سوال کے گرد آگے بڑھتی ہے۔

39 سال بعد پھر ایک ساتھ نظر آئے ارون گوول اور دیپیکا چکھلیا

فلم کی سب سے بڑی کشش ارون گوول اور دیپیکا چکھلیا کی جوڑی ہے۔ تقریباً 39 سال بعد دونوں فنکار ایک ساتھ پردے پر دکھائی دے رہے ہیں۔نارائن گپتا کے کردار میں ارون گوول نے ایک ایسے بزرگ کا کردار ادا کیا ہے جو حالات کے سامنے کمزور ضرور پڑتا ہے، لیکن اپنا خودداری اور وقار نہیں چھوڑتا۔ دکان بچانے کی کوشش، سرکاری دفاتر کے چکر اور خاندان کی فکر ان کے کردار کے درد کو بخوبی نمایاں کرتی ہے۔وہیں نارائن گپتا کی اہلیہ کے کردار میں دیپیکا چکھلیا نے سادگی اور حساسیت کے ساتھ اپنی اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ دونوں کی اسکرین پر کیمسٹری فلم کو جذباتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔فلم میں ’پنچایت‘ سے شہرت حاصل کرنے والے پنکج جھا بھی اپنی مؤثر اداکاری سے متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے نظام کے سخت اور بااثر چہرے کو پردے پر بخوبی پیش کیا ہے۔ ان کی اداکاری فطری اور بے باک نظر آتی ہے۔

ہدایت کاری اور موسیقی کیسی ہے؟

فلم کے ہدایت کار پردیپ گپتا نے کہانی کو چھوٹے شہر کے ماحول اور عام آدمی کی پریشانیوں کے درمیان پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدالتوں، سرکاری دفاتر اور ایک متوسط طبقے کے خاندان کی مشکلات کو کہانی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ فلم کا انداز حقیقت سے قریب رہنے کی کوشش کرتا ہے۔موسیقی بھی فلم کے جذباتی پہلو کو مضبوط بناتی ہے۔ کیلاش کھیر کی آواز میں گایا گیا نغمہ ’رام اودھ میں آئے‘ فلم کے ایک اہم موڑ پر سنائی دیتا ہے۔ وہیں ’نہ رگڑا نہ رعب‘ میں لوک موسیقی کا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ پس منظر کی موسیقی بھی کہانی کے درد اور جذبات کو ابھارنے میں مدد دیتی ہے۔

فلم کی خوبیاں اور خامیاں

’نوٹس‘ کی سب سے بڑی خوبی اس کا سماجی موضوع اور ارون گوول و دیپیکا چکھلیا کی جوڑی ہے۔ فلم سرکاری نظام کی من مانی اور عام آدمی کی بے بسی پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس کے مکالمے بھی کئی مقامات پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔تاہم، فلم کی سست رفتار کچھ ناظرین کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ تیز رفتار کہانی اور مسلسل سنسنی کی توقع رکھنے والے ناظرین کو یہ فلم کچھ طویل محسوس ہو سکتی ہے۔

دیکھیں یا نہیں؟

اگر آپ ایکشن، تیز رفتار کہانی یا کامیڈی کے بجائے سماجی مسائل پر مبنی کوئی حساس فلم دیکھنا چاہتے ہیں تو ’نوٹس‘ آپ کے ویک اینڈ کے لیے ایک اچھا انتخاب ہو سکتی ہے۔ تقریباً چار دہائیوں بعد ارون گوول اور دیپیکا چکھلیا کو ایک ساتھ دیکھنا بھی اس فلم کی خاص کشش ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read