Bharat Express DD Free Dish

GRAP 2 restrictions in Delhi: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی میں اضافہ، گریپ-2 نافذ،  جانئے کیا ہے گریپ اور اسے کیوں نافذ کیا جاتا ہے؟

گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ اس منصوبے کا سب سے سخت مرحلہ ہے۔ضروری سامان لے جانے والے ٹرکوں کے علاوہ دیگر ٹرکوں کی دہلی میں داخلے پر پابندی عائد ہوجاتی ہے۔اسکول اور کالج بند کیے جا سکتے ہیں اور آن لائن کلاسز شروع کی جا سکتی ہیں۔سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔حکومت طاق اور جفت نمبر والی گاڑیوں سے متعلق اسکیم بھی نافذ کرسکتی ہے۔

نئی دہلی : دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی کے پیش نظر فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) نے 2 نومبر کو فوری اثر سے دہلی-این سی آر میں گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ) کا دوسرا مرحلہ نافذ کردیا ہے۔دوسری جانب بدھ کے روز نوئیڈا کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 600 سے تجاوز کرگیا، جو انتہائی سنگین آلودگی کی سطح میں آتا ہے۔ سی اے کیو ایم نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گریپ کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت جاری کردہ شہری ہدایات پر عمل کریں۔ گریپ-2 کے تحت متعلقہ محکموں کو کئی سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایسے میں جانتے ہیں کہ گریپ کیا ہے، اسے کب نافذ کیا جاتا ہے اور اس کے تحت کن چیزوں پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں؟

کیا ہے گریپ اور اسے کیوں نافذ کیا جاتا ہے؟

گریپ یعنی ’گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان‘ دہلی اور قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ایک ہنگامی منصوبہ ہے۔ آسان الفاظ میں یہ آلودگی کی سطح کے مطابق نافذ کیے جانے والے مختلف سخت قوانین کا مجموعہ ہے۔ ہوا جتنی زیادہ آلودہ ہوگی، پابندیاں بھی اتنی ہی سخت ہوتی جائیں گی۔اس منصوبے کو پہلی مرتبہ 2017 میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے نوٹیفائی کیا تھا۔فی الحال گریپ نافذ کرنے کی ذمہ داری فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) کے پاس ہے۔ یہ کمیشن ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) کی پیش گوئیوں اور فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔جب اے کیو آئی مقررہ حد سے تجاوز کرجاتا ہے یا محکمہ موسمیات پیش گوئی کرتا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ہوا کا معیار مزید خراب ہونے والا ہے تو سی اے کیو ایم آلودگی کی صورت حال کے مطابق گریپ کا متعلقہ مرحلہ نافذ کرنے کا حکم جاری کرتا ہے۔

گریپ کا پہلا مرحلہ: خراب ہوا (اے کیو آئی 201 سے 300)

گریپ کا پہلا مرحلہ اس وقت نافذ ہوتا ہے جب ہوا کا معیار خراب زمرے میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے تحت تعمیراتی اور انہدامی مقامات پر دھول کو کنٹرول کرنے کے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔کھلے مقامات پر کچرا جلانے پر مکمل پابندی ہوتی ہے۔سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ شروع کیا جاتا ہے۔10 سے 15 سال پرانی گاڑیوں کے خلاف کارروائی سخت کی جاتی ہے۔تعمیراتی مقامات پر دھول کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔لوگوں کو ذاتی گاڑیوں کے بجائے عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

گریپ کا دوسرا مرحلہ: انتہائی خراب ہوا (اے کیو آئی 301 سے 400)

دوسرا مرحلہ اس وقت نافذ ہوتا ہے جب فضائی آلودگی انتہائی خراب زمرے میں پہنچ جاتی ہے۔ اس مرحلے میں پہلے مرحلے کی پابندیوں کے ساتھ مزید سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔ڈیزل جنریٹر کے استعمال پر پابندی عائد کی جاتی ہے، ضروری خدمات کو چھوٹ حاصل ہوتی ہے۔ذاتی گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے پارکنگ فیس بڑھائی جاتی ہے۔سی این جی اور الیکٹرک بسوں کے ساتھ میٹرو کی خدمات اور پھیرے بڑھائے جاتے ہیں۔تندور اور کوئلے سے کھانا پکانے والے ہوٹلوں اور ڈھابوں پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔

گریپ کا تیسرا مرحلہ: سنگین آلودگی (اے کیو آئی 401 سے 450)

یہ مرحلہ اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب ہوا کا معیار سنگین زمرے میں پہنچ جاتا ہے۔ اس دوران تعمیراتی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔قومی سلامتی اور ضروری منصوبوں کو چھوڑ کر تمام تعمیراتی اور انہدامی کاموں پر پابندی لگ جاتی ہے۔دہلی-این سی آر میں بی ایس-3 پیٹرول اور بی ایس-4 ڈیزل والی چار پہیہ گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی عائد ہوتی ہے۔پرائمری اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

گریپ کا چوتھا مرحلہ: انتہائی سنگین یا ہنگامی صورت حال (اے کیو آئی 450 سے زیادہ)

گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ اس منصوبے کا سب سے سخت مرحلہ ہے۔ضروری سامان لے جانے والے ٹرکوں کے علاوہ دیگر ٹرکوں کی دہلی میں داخلے پر پابندی عائد ہوجاتی ہے۔اسکول اور کالج بند کیے جا سکتے ہیں اور آن لائن کلاسز شروع کی جا سکتی ہیں۔سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔حکومت طاق اور جفت نمبر والی گاڑیوں سے متعلق اسکیم بھی نافذ کرسکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read