انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) کے ڈائریکٹر پروفیسر گووندن رنگاراجن نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) تعلیم اور سائنسی تحقیق میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے، تاہم اس کا بڑھتا ہوا اثر سچائی، اعتماد اور انسانی رشتوں کے حوالے سے کئی سوالات بھی کھڑے کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز احمد آباد میں اڈانی یونیورسٹی کی تیسری تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اڈانی یونیورسٹی کی صدر ڈاکٹر پریتی اڈانی نے تقریب کی صدارت کی اور مہمانِ خصوصی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم خوش قسمت ہیں کہ پروفیسر رنگاراجن ہمارے مہمانِ خصوصی ہیں۔ ریاضی، تحقیق اور تعلیمی قیادت کے شعبوں میں ان کی نمایاں خدمات ہمارے فارغ التحصیل طلبہ اور ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہم اڈانی یونیورسٹی کو تحقیق پر مبنی ایک ممتاز یونیورسٹی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘
پروفیسر رنگاراجن نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت تعلیم اور تحقیق میں بے پناہ امکانات پیش کرتی ہے۔ یہ پیچیدہ مسائل حل کرنے اور سائنسی دریافتوں کے عمل کو تیز کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ لیکن ہمیں اس کے نتائج کے بارے میں بھی محتاط رہنا ہوگا۔ جب تصاویر، ویڈیوز اور معلومات اس قدر حقیقت سے قریب تر انداز میں تیار کی جا سکتی ہیں تو ہم کیسے جانیں گے کہ حقیقت کیا ہے؟ اور جب ٹیکنالوجی ہمیں ڈیجیٹل طور پر ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے تو کیا ہم حقیقت میں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟ ہمیں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس عمل میں ہم کیا کچھ کھو سکتے ہیں۔‘‘
صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کی اہمیت
صنعت اور تعلیمی اداروں کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا، ’’اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صنعت کسی یونیورسٹی کو صرف یہ بتائے کہ اسے کیا پڑھنا چاہیے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ حقیقی دنیا کے مشکل حالات سے واقفیت ایسے سوالات کو جنم دے سکتی ہے جنہیں نہ صنعت نے تنہا سوچا ہوتا اور نہ ہی تعلیمی اداروں نے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں غیر معمولی پیمانے پر ترقی کی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جدت اور نئے منصوبوں کو بھی اسی بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ایسی اختراعات اور نئی پیش رفت پر کام کریں جن کے فوائد معاشرے کے سب سے زیادہ محروم طبقات تک پہنچ سکیں۔
سالانہ رپورٹ میں تعلیمی و تحقیقی پیش رفت کا ذکر
یونیورسٹی کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے پرووسٹ پروفیسر (ڈاکٹر) دھول پوجارا نے اساتذہ، عملے، طلبہ اور صنعتی شراکت داروں کی خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تعلیمی بنیادوں کو مضبوط بنانے، تحقیقی ماحول کو فروغ دینے اور صنعت و معاشرے کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کا طویل مدتی مقصد ایک کثیر شعبہ جاتی تعلیمی و تحقیقی ادارے کے طور پر ترقی کرنا ہے، جو ہندوستان کی ترقی اور قومی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ 2022 میں قائم ہونے والی اڈانی یونیورسٹی صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم، عملی تربیت اور تحقیق پر توجہ دیتی ہے۔
اڈانی یونیورسٹی کے بارے میں
اڈانی یونیورسٹی کا تصور بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل صحت کے شعبوں میں بین الشعبہ جاتی تحقیق، علم کی تخلیق اور تدریسی و تعلیمی عمل کو فروغ دینے کے مقصد سے پیش کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک جامع ماحولیاتی نظام اپناتی ہے، جس میں نصاب، مختلف تعلیمی شعبوں اور تحقیق کے ساتھ ہنر مندی کی ترقی، پیشہ ورانہ تربیت، اساتذہ کی تربیت، کاروباری صلاحیتوں کا فروغ، جدت، مصنوعات کی تیاری، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) کی تخلیق، معیار اور سرٹیفکیشن، مشاورت اور دنیا بھر کے صنعتی و تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مشترکہ تحقیق شامل ہے۔ فی الحال یونیورسٹی انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور بزنس مینجمنٹ کے شعبوں میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کر رہی ہے۔ ان میں بی ٹیک، ایم ٹیک اور ایم بی اے کے علاوہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے مطابق لچکدار مربوط بی ٹیک پلس ایم بی اے اور بی ٹیک پلس ایم ٹیک پروگرام بھی شامل ہیں۔ یونیورسٹی میں بین الشعبہ جاتی ڈاکٹریٹ پروگرام (پی ایچ ڈی) بھی چلایا جا رہا ہے اور یہاں 1800 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اڈانی یونیورسٹی گجرات کی پہلی یونیورسٹی ہے جس نے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں انتظامی نظام کے لیے معیارِ اعلیٰ سمجھے جانے والے آئی ایس او 21001:2018 سرٹیفکیشن حاصل کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


