یورپ کے جغرافیائی و سیاسی نقشے پر ایک بڑا اور غیر متوقع بحران سامنے آیا ہے۔ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں اس وقت غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی، جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت، ’آئینی ٹریبونل‘ کے چیف جسٹس کو معطل کر دیا گیا اور پولیس نے پوری عمارت کو سیل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد وارسا کی سڑکوں پر پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے، جس کے باعث فساد مخالف پولیس کو صورت حال سنبھالنے کے لیے تعینات کرنا پڑا۔ حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ افریقی ملک سینیگال کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی کو اپنا طیارہ دورانِ پرواز ہی واپس موڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
پولینڈ میں اقتدار کی کشمکش
اس پورے تنازع کی بنیادی وجہ پولینڈ کے دو بڑے رہنماؤں، وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک اور صدر کارول ناوروکی کے درمیان جاری بالادستی کی کشمکش بتائی جا رہی ہے۔ 2023 میں یورپی یونین کے حامی رہنما ڈونالڈ ٹسک کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے سابقہ ’پی آئی ایس‘ حکومت کے دور میں عدلیہ پر بڑھائے گئے سیاسی کنٹرول کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ تاہم ’پی آئی ایس‘ پارٹی کے قریب سمجھے جانے والے صدر کارول ناوروکی مسلسل اپنے ویٹو کے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ٹسک حکومت کے فیصلوں میں رکاوٹ ڈالتے رہے ہیں۔ اس بار حکومت کی جانب سے چیف جسٹس بوگدان شویینچکووسکی کا استثنیٰ ختم کرکے انہیں معطل کیے جانے کے بعد صدر کے حامی مشتعل ہو گئے اور احتجاج کے لیے سڑکوں پر اتر آئے۔
عدالت کے باہر تشدد، متعدد افراد حراست میں
چیف جسٹس کی معطلی کی خبر پھیلتے ہی پی آئی ایس پارٹی کے سیکڑوں حامی وارسا میں آئینی ٹریبونل کے باہر جمع ہو گئے۔ مظاہرین نے پولیس پر اشیا پھینکیں، جبکہ بعض افراد نے عدالت کے احاطے کی باڑ پھلانگ کر اندر داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ اس کے جواب میں فساد مخالف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا اور عدالت کی عمارت کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔ عدالت کی انتظامیہ نے حکومت کے اس اقدام کو ملک کے خلاف ’مجرمانہ بغاوت‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لیے ایسے فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں۔
یورپی یونین کی تشویش کیوں بڑھی؟
پولینڈ میں جاری یہ آئینی بحران محض ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے یورپی یونین کے طاقت کے توازن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پولینڈ یورپی یونین کا ایک اہم رکن ملک ہے اور یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کے خلاف یورپ کے نمایاں محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایسے میں پولینڈ کے اندر جمہوریت اور عدلیہ کے معاملے پر پیدا ہونے والی یہ سیاسی کشمکش یورپی یونین کے استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ اب عالمی برادری کی نظریں صدر کارول ناوروکی کی وارسا واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور ملک کے اگلے سیاسی اقدامات پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


