اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم۔ (تصویر: ٹوئٹر)
سماج وادی پارٹی کے سینئررہنما اعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کی رہائی سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اعظم خان اورعبداللہ اعظم ہفتہ (31 اکتوبر) کی صبح رامپورجیل سے رہا ہوسکتے ہیں۔ دونوں کی رہائی سے متعلق عدالتی احکامات رام پورجیل پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات (29 اکتوبر) کودوپین کارڈ معاملے میں دونوں کوضمانت دے دی تھی۔ ساتھ ہی سزا معطل کردی تھی۔
ہائی کورٹ نے سزا معطل کرنے کا دیا تھا حکم
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سمیت گوپال نے رام پورکی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائرنظرثانی کی عرضی پرسماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے سماج وادی پارٹی کے رہنما اورسابق کابینی وزیراعظم خان اوران کے بیٹے کی سزا معطل کردی تھی۔ تاہم عدالت نے دونوں کوقصوروارقراردینے کے فیصلے پرروک لگانے سے صاف انکارکردیا تھا۔
15 اکتوبرکوعدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا تھا
اس معاملے میں اعظم خان اورعبداللہ اعظم خان کی جانب سے سینئروکیل ابھیشیک منوسنگھوی، این آئی جعفری اورایڈوکیٹ شاشوت آنند نے عدالت میں پیروی کی تھی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے 15 اکتوبرکواپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا، جسے اب سناتے ہوئے دونوں کوضمانت دے دی گئی ہے۔
اعظم خان اوران کے بیٹے نے فیصلے کوہائی کورٹ میں دیا تھا چیلنج
سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم خان نے مبینہ طورپردوپین کارڈ رکھنے کے معاملے میں اپنی سزا اورقصوروارقراردیئے جانے کے فیصلے کوالہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ دونوں نے اس سلسلے میں فوجداری نظرثانی کی عرضی دائرکی تھی۔ گزشتہ سال نومبرمیں رام پورکے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے اعظم خان اورعبداللہ اعظم کودھوکہ دہی، فرضی دستاویزات کے استعمال اورمجرمانہ سازش کا قصوروار قراردیا تھا۔
بی جے پی لیڈرآکاش سکسینہ نے درج کرائی تھی ایف آئی آر
قابل ذکرہے کہ اس معاملے میں بی جے پی لیڈرآکاش سکسینہ نے سال 2019 میں ایف آئی آردرج کرائی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ عبداللہ اعظم نے الگ الگ تاریخ پیدائش والے دو پین کارڈ کا استعمال کرکے ناجائزفائدہ حاصل کیا۔ الزام کے مطابق یہ مبینہ جعل سازی اس لیے کی گئی تھی تاکہ عبداللہ اعظم انتخاب لڑنے کے اہل قراردیئے جاسکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





