غازی آباد: اترپردیش کے غازی آباد میں سن سٹی (این ایچ-24) کے وسیع میدان میں گزشتہ سات دنوں سے جاری چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر مبنی دنیا کے عظیم الشان ڈرامے ’جانتا راجا‘ کا بدھ کے روز شاندار اختتام ہوا۔ دیویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام منعقدہ اس تاریخی ڈرامے میں 250 فنکاروں نے اپنی پرفارمنس سے تاریخ کے اہم واقعات کو اسٹیج پر زندہ کر دیا۔ بھارت ایکسپریس اس سات روزہ ثقافتی و تاریخی پروگرام کا آفیشل میڈیا پارٹنر رہا۔ 22 سے 28 اکتوبر تک جاری اس پروگرام کے دوران ’جے بھوانی، جے شیواجی‘ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعروں سے پورا علاقہ گونجتا رہا۔ آخری دن بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ دہلی-این سی آر، مغربی اتر پردیش، ہریانہ اور اتراکھنڈ سے آئے نوجوانوں اور خاندانوں نے اس پروگرام میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ آخری دن مفت ڈرامے کے بعد جب 250 فنکاروں کو اعزاز سے نوازا گیا تو پورا میدان دیر تک تالیوں اور نعروں سے گونجتا رہا۔ اختتامی تقریب میں سوامی سنتوش آنند جی مہاراج، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر نشی کانت دوبے، راجیہ سبھا رکن اور سابق قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ، سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر سنجیو بالیان، اترپردیش حکومت کے وزیر کپل دیو اگروال، وزیر مملکت رام کیش نشاد، رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر بھولا سنگھ، فرخ آباد کے رکن اسمبلی ناگیندر سنگھ راٹھور، مرکزی وزیر کے معاون ویبھو ڈانگے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے علاقائی رابطہ سربراہ ڈاکٹر ہریش سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔
ڈاکٹر آشیش گوتم سامعین کی محبت دیکھ کر جذباتی ہوگئے
اس عظیم الشان پروگرام کے محرک اور دیویہ پریم سیوا مشن ہریدوار کے بانی صدر ڈاکٹر آشیش گوتم، جنہیں ’بھیا جی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، آخری دن سامعین کی بے پناہ محبت دیکھ کر جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ 22 سے 28 اکتوبر تک غازی آباد کے سن سٹی میں نوجوانوں اور خاندانوں کا حب الوطنی سے سرشار جوش قابلِ دید تھا۔ ان کے مطابق، اس پروگرام نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ملک کی نوجوان نسل خدمت، قربانی، اخلاقی اقدار اور بہادری کی قدیم روایت کو آگے بڑھانے میں کبھی پیچھے نہیں رہے گی۔ انہوں نے ’جانتا راجا‘ کو محض ایک ڈرامائی پیشکش کے بجائے ایک ایسی روحانی مہم قرار دیا جو ہر ہندوستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر اسے قومی فرائض کے تئیں بیدار کرتی ہے۔ 22 سے 28 اکتوبر تک روزانہ شام 4:30 بجے شروع ہونے والی یہ پیشکش مسلسل چار گھنٹے جاری رہتی تھی۔ اس میں 250 فنکاروں نے گھوڑوں، اونٹوں، ہاتھیوں، توپوں اور تلواروں کے ساتھ سولہویں صدی کے تاریخی واقعات کو اسٹیج پر پیش کیا۔ چار منزلہ عظیم الشان اسٹیج پر سنگھ گڑھ، پرتاپ گڑھ اور رائے گڑھ قلعوں کی شاندار نقلیں تیار کی گئی تھیں۔ شیواجی مہاراج کی تاج پوشی کے مناظر اور تاناجی مالوسرے کی قربانی نے ناظرین کو جذباتی کر دیا اور ان کے دلوں میں فخر کا احساس پیدا کیا۔
رام ناتھ کووند سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی
سات روزہ پروگرام کے دوران ملک کی اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ سابق صدر ڈاکٹر رام ناتھ کووند تیسرے دن پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر آشی ش گوتم کو چھترپتی شیواجی مہاراج کی شفقت اور روحانیت کی جدید مثال قرار دیا تھا۔ تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا، جھارکھنڈ کے گورنر سنتوش گنگوار اور مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے بھی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے شیواجی مہاراج کے بہتر نظامِ حکومت، سفارت کاری اور قربانیوں سے سبق لینے کی اپیل کی۔ پرمارتھ نکیتن کے سوامی چدانند سرسوتی نے کہا کہ اکھنڈ بھارت کی تعمیر کے لیے تلوار کی طاقت کے ساتھ خیالات کی طاقت بھی ضروری ہے۔ چھٹے دن سابق مرکزی وزیر اور رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر، رکن پارلیمنٹ منوج تیواری اور سابق وزیر سریش رانا نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے نوجوانوں میں جوش پیدا کیا اور انہیں تخریبی قوتوں کے تئیں محتاط رہنے کا پیغام دیا۔ ڈاکٹر آشیش گوتم نے کہا کہ غازی آباد میں ’جانتا راجا‘ کے انعقاد کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ ان کے مطابق، 1666 میں اورنگ زیب کی آگرہ قید سے نکلنے کے بعد چھترپتی شیواجی مہاراج براہ راست غازی آباد کے مقدس شری دودھیشور ناتھ مہادیو مٹھ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے یگیہ اور ہون کے بعد ہندوی سوراج کے قیام کا عزم دہرایا تھا۔ پروگرام میں دودھیشور ناتھ مٹھ کے پیٹھادھیشور شری مہنت نارائن گری جی مہاراج نے بھی شرکت کی اور سنتوں کی جانب سے آشیرواد دیا۔
سوشل میڈیا پر بھی چھایا رہا پروگرام، آخری دن مفت داخلہ
منتظمین کے مطابق، ہفتے کے اختتام اور خصوصی دنوں میں روزانہ 25 سے 30 ہزار سے زیادہ ناظرین نے پروگرام دیکھا۔ میرٹھ، مرادآباد اور سنبھل سے 80 سے زیادہ بسوں میں کالج کے طلبہ بھی پہنچے۔ طلبہ نے موبائل کی ٹارچ روشن کرکے اسٹیج کا استقبال کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی کئی دن تک پروگرام سے متعلق ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے۔ انتظامی کمیٹی کے صدر ڈاکٹر راجیش گپتا، چیئرمین جی این آئی او ٹی، کنوینر ونئے چودھری اور جنرل سکریٹری دیپک شرما کی قیادت میں آخری دن تمام ناظرین کے لیے داخلہ مفت رکھا گیا۔ ڈرامے کے اختتام پر ہزاروں لوگوں کے لیے کھانے اور پرساد کے ساتھ بھنڈارے کا بھی انتظام کیا گیا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں دیویہ پریم سیوا مشن کے ایگزیکٹو صدر ڈاکٹر سنجے چترویدی، معاون کنوینر راگھویندر سنگھ، جنرل سکریٹری ابھے پال، ادے ویر سنگھ، وکاس پنڈیر، ورون پنڈیر، انکت گری، سینئر صحافی پریم شکلا، سریش چوہانکے، دیپک چورسیا، شری وردھن تریویدی، ہرش وردھن ترپاٹھی اور اداکار راجا بندیلہ سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے اہم کردار ادا کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



