ممبئی: چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ (CSMIA) نے اپنے گھریلو ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر کے منصوبے کی پہلی فنکارانہ جھلکیاں جاری کی ہیں۔ تقریباً 60 سال پرانی موجودہ عمارت کی جگہ ایک جدید اور عالمی معیار کا ٹرمینل تعمیر کیا جائے گا، جسے دسمبر 2030 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نئے ٹرمینل میں ممبئی کی ثقافتی شناخت، قدرتی حیاتیاتی تنوع اور جدید انجینئرنگ کا امتزاج پیش کیا جائے گا۔ ایئرپورٹ ایئرلائن آپریٹرز کمیٹی (AOC) کی میٹنگ کے دوران نئے ٹرمینل کے مجوزہ ڈیزائن کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔ سال 1964 میں شروع ہونے والی موجودہ عمارت کی جگہ جدید سہولتوں سے آراستہ نیا ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا۔
پرانی عمارت کی جگہ جدید ٹرمینل تعمیر کرنے کا فیصلہ
رپورٹ کے مطابق، اسٹرکٹ ویل کی جانب سے 2017 میں اور آئی آئی ٹی بمبئی کی جانب سے 2024 میں کیے گئے آزادانہ حفاظتی آڈٹ میں موجودہ عمارت میں ساختی کمزوریوں اور سلامتی سے متعلق خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان جائزوں کے بعد عوام کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے پرانی عمارت کی جگہ نیا ٹرمینل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نئے ٹرمینل کا ڈیزائن مسافروں کو جدید سہولتوں کے ساتھ ایک منفرد تجربہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے داخلی حصے کو وسیع اور پُرشکوہ شکل دی جائے گی، جبکہ چیک اِن ہال کھلا اور ستونوں سے پاک ہوگا۔ قدرتی روشنی سے روشن اس ہال میں ممبئی کی ثقافتی وراثت کی عکاسی کرنے والے دیواری فن پارے بھی نصب کیے جائیں گے۔ روانگی کے انتظار کے لیے مختص علاقے کو سرسبز نخلستان کی طرز پر تیار کیا جائے گا، جہاں اندرونی ہریالی، پریمیم لاؤنج اور رن وے کا نظارہ پیش کرنے والے بڑے شیشے کے حصے ہوں گے۔ اسی طرح آمد کے علاقے میں ممبئی کی حیاتیاتی تنوع کی علامت کے طور پر راج ہنس، یعنی فلیمنگو، کا ایک بڑا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔
سالانہ مسافر صلاحیت 1.5 کروڑ سے بڑھ کر 2 کروڑ ہوگی
نئے ٹرمینل کے فعال ہونے کے بعد سالانہ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت میں تقریباً 33 فیصد اضافہ ہوگا۔ موجودہ صلاحیت 1.5 کروڑ مسافروں سے بڑھ کر 2 کروڑ سالانہ ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ چیک اِن، سکیورٹی جانچ، بورڈنگ اور سامان کی وصولی کے نظام کو بھی وسعت دی جائے گی۔ منصوبے کے تحت چیک اِن کاؤنٹرز کی تعداد 74 سے بڑھا کر 109 کی جائے گی۔ سکیورٹی جانچ کے لیے مسافروں کی لین کی تعداد ڈھائی گنا بڑھا کر 15 کی جائے گی، جبکہ ٹرانسفر مسافروں کے لیے پانچ الگ لین بھی دستیاب ہوں گی۔ طیاروں میں سوار ہونے کے عمل کو زیادہ سہل بنانے کے لیے ایئربرج سے منسلک کانٹیکٹ اسٹینڈز کی تعداد 7 سے بڑھا کر 25 کی جائے گی۔ اس کے علاوہ روایتی بورڈنگ گیٹس کی جگہ 12 جدید ای گیٹس نصب کیے جائیں گے۔ سامان کی وصولی کے لیے بیگیج ریکلیم بیلٹس کی تعداد بھی 5 سے بڑھا کر 11 کردی جائے گی۔
اپریل 2027 سے تعمیراتی کام، دسمبر 2030 تک تکمیل کا ہدف
ممبئی ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت اور مسافروں کو ہونے والی ممکنہ پریشانی کم کرنے کے لیے تعمیراتی کام مرحلہ وار مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اپریل 2027 میں موجودہ ٹرمینل 1 کو منہدم کرنے کا کام شروع ہوگا۔ مارچ 2029 تک ٹرمینل 2 میں شمال مغربی حصے پر نئی جی پلس تھری توسیع مکمل کرکے فعال کرنے کا ہدف ہے، تاکہ عبوری مدت میں گھریلو پروازوں کو سنبھالا جاسکے۔ منصوبے کے مطابق، دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل 1 مکمل طور پر تیار ہوجائے گا۔ اس کے بعد ممبئی ایئرپورٹ کی مجموعی سالانہ مسافر گنجائش بڑھ کر 6.5 کروڑ ہوجانے کی توقع ہے۔ ممبئی ایئرپورٹ کی جانب سے جاری کردہ مجوزہ ڈیزائن کے مطابق، نیا ٹرمینل جدید بنیادی ڈھانچے، مسافروں کی سہولت اور شہر کی ثقافتی و قدرتی شناخت کو یکجا کرنے کی کوشش ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



