پریاگ راج: اتر پردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ میں بدھ کے روز وکلا کا احتجاج پُرتشدد ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق، وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور فرنیچر پھینکا، جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی۔ واقعے کے بعد عدالت نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہنگامے میں ملوث افراد کی شناخت کرنے اور ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
اس تنازع کی ابتدا عدالت میں بیٹھنے کے انتظامات کے لیے ہوئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق، عدالت میں پولیس افسران اور دیگر سینئر عہدیداروں کے بیٹھنے کے لیے الگ کرسیوں کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) مبینہ طور پر اس قطار میں بیٹھ گئے جو عام طور پر وکلا کے لیے مخصوص رہتی ہے۔ الزام ہے کہ ایک وکیل نے پولیس افسر سے پیچھے کی جانب بیٹھنے کی درخواست کی، جس پر تنازع پیدا ہوگیا۔ بار ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد ایک سرکاری وکیل نے متعلقہ وکیل کو سرزنش کی اور جج سے اس کی شکایت کی۔
بار ایسوسی ایشن نے جج پر لگائے سنگین الزامات
الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 27 اکتوبر کو جاری ایک خط میں الزام لگایا کہ جسٹس اجے بھنوٹ نے متعلقہ وکیل کو جیل بھیجنے کی دھمکی دی تھی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، جب وکیل نے معافی مانگنے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر اسے پولیس افسر سے معافی مانگنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ سماعت کے دوران ایک سینئر وکیل کا مذاق اڑایا گیا۔ بار ایسوسی ایشن نے ان واقعات پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس سے مداخلت کرنے اور معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان الزامات پر کارروائی نہیں کی گئی تو اس کے ارکان جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت کا بائیکاٹ کریں گے۔ اسی احتجاج کے دوران بدھ کو عدالت میں ہنگامہ آرائی اور مبینہ توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہوگی شناخت، توہین عدالت کی کارروائی کی تیاری
جسٹس ارون کمار سنگھ دیشوال نے عدالت میں پیش آنے والے ہنگامے کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے رجسٹرار (پروٹوکول) کو سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے اور واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کا مقصد متعلقہ افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنا ہے۔ واقعے سے متعلق فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، شناخت مکمل ہونے کے بعد ملزم وکلا کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے معاملہ اتر پردیش بار کونسل کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
وکلا کے احتجاج پر بھی قانون کی پاسداری ضروری: وکیل
ایڈوکیٹ پارس ناتھ سنگھ نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اندر توڑ پھوڑ کرنا اور جج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے مطابق، وکلا کی شکایات خواہ کچھ بھی ہوں، انہیں جسمانی یا زبانی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ توہین عدالت کے دائرے میں آسکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بار اور بنچ ایک ہی رتھ کے دو پہیے ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ واقعے کے بعد ہائی کورٹ میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ معاملے میں عدالتی کارروائی اور متعلقہ افراد کی شناخت کے نتائج اہم ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



