ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق سیاسی، سماجی اور عدالتی سطح پر بحث مسلسل تیز ہو رہی ہے۔ آئین کی دفعہ 44 میں تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسے عملی شکل دینے کے حوالے سے مختلف ریاستوں اور قانونی ماہرین کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ اسی قومی بحث کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے ’بھارت کلیکٹو فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے دارالحکومت دہلی میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کرول، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سُجیت کمار، دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر وکیل کیرتی اپل، اتراکھنڈ یکساں سول کوڈ کمیٹی کے رکن منو گوڑ سمیت کئی ممتاز قانون داں شریک ہوئے۔
’یکساں سول کوڈ کا نفاذ ملک کے مفاد میں، سب کے لیے ایک قانون ہو‘: جسٹس سنجے کرول
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کرول نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ ملک کے مفاد میں ایک خوش آئند قدم ہے، کیونکہ اس سے تمام شہریوں کو یکساں قانونی تحفظ فراہم ہوگا۔ انہوں نے تاریخی شاہ بانو معاملے کا ذکر کرتے ہوئے اس وقت عدلیہ کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کھاپ پنچایتوں کے طریقۂ کار، تین طلاق اور لیو اِن رشتوں جیسے حساس اور عصری موضوعات پر بھی قانونی نقطۂ نظر پیش کیا۔
جسٹس کرول نے عوامی تہوار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر مساوات اور سماجی ہم آہنگی کی حقیقی تصویر دیکھنی ہو تو بہار جا کر چھٹھ مہاپرو کی روایت کا مشاہدہ کرنا چاہیے، جہاں کسی طرح کا سماجی امتیاز دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کی دفعہ 44 کی روح پورے بھارت کے سماجی تانے بانے کو مضبوط بنانے اور تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
امبیڈکر کے تصور اور 80 لاکھ تجاویز کا ذکر
دہلی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل کیرتی اپل نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دستور ساز اسمبلی میں ہی واضح کر دیا گیا تھا کہ ایک جدید اور سیکولر ملک کے لیے یکساں سول کوڈ کیوں ناگزیر ہے۔وہیں، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سُجیت کمار نے یکساں سول کوڈ کے معاملے میں ملک گیر عوامی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ لا کمیشن اور متعلقہ پلیٹ فارموں کو اب تک اس سلسلے میں تقریباً 80 لاکھ شہریوں اور مختلف تنظیموں سے اہم تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ عام لوگ اس اصلاح کے بارے میں کتنے بیدار ہیں۔
’اتراکھنڈ ملک کے لیے رہنما بن گیا‘: منو گوڑ
اتراکھنڈ یکساں سول کوڈ کمیٹی کے رکن منو گوڑ نے ریاست کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے تقریباً پونے دو سال قبل یکساں سول کوڈ نافذ کرکے ایک تاریخی مثال قائم کی۔ انہوں نے بتایا کہ جب ریاست نے اس مقصد کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی تھی تو اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر کی گئی تھی، جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا تھا۔منو گوڑ نے کہا کہ آئین کے تحت مرکز اور ریاست، دونوں کو مشترکہ فہرست کے موضوعات پر قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے سے پہلے ہر ضلع اور گاؤں میں عوام سے بات چیت کی گئی اور لاکھوں لوگوں کی رائے حاصل کی گئی۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عبادت کے طریقوں اور مذہبی عقائد میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے بھارت کی یکجہتی اور سالمیت برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کے یکساں حقوق ضروری ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آزادی کے 79ویں سال میں داخل ہو چکا بھارت آنے والے وقت میں یکساں سول کوڈ کو پورے ملک میں کس شکل میں نافذ کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



