Bharat Express DD Free Dish

Jamia Students Protest: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر احتجاج سے قبل سیکورٹی فورسیز کا مجمع، دفعہ 163 نافذ، کیمپس میں طلبا کے داخلے پر پابندی عائد

یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے اوراپنی سوشل میڈیا پوسٹس کوہٹانے پررضامندی ظاہرکی۔ تاہم، احتجاج کرنے والے طلبا نے انتظامیہ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ ان کا 16 روزہ احتجاج ان کے تمام مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہرمنگل کے روزاحتجاج کے اعلان کے بعد سیکورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔ طلبا کے احتجاج کے پیش نظریونیورسٹی کے باہربڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکارتعینات کئے گئے ہیں۔ لائبریری، کلاسیزبند کردی گئی ہیں۔ ساتھ ہی طلبا کے کیمپس میں داخلے پربھی پابندی لگا دی گئی ہے اورکسی بھی طالب علم کوآئی ڈی کارڈ دکھانے کے بعد بھی اندرنہیں جانے دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ کردی گئی ہے۔۔ دہلی پولیس اوردیگرسیکورٹی فورسیزکی مستعدی کے بعد طلبا میں سناٹا دیکھنے کوملا۔ حالانکہ طلبا جوکیمپس کے اندرموجود ہیں، ان کے تیور ابھی بھی برقرارہیں اورانتظامیہ کے تئیں سخت ناراض نظرآرہے ہیں۔ وہیں کچھ طلبا ایک ایک دودوکی تعداد میں آتے جاتے ہوئے نظرآئے۔ انتظامیہ نے امن وقانون کی صورت حال برقراررکھنے کے لئے احتیاطی اقدامات کئے ہیں۔

دو دہائیوں سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے

قابل ذکرہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طویل عرصے سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ طلبہ یونین کوبحال کیا جائے اورانتخابات کرانے کے لئے وقت مقررکیا جائے۔ اسی مطالبے سے متعلق 12 اکتوبرسے احتجاج اوربھوک ہڑتال شروع کی گئی تھی۔ مظاہرہ کرنے والے طلبا معطلی سمیت تادیبی کارروائی واپس لینے اورسیکورٹی اہلکاروں کے رویے کی جانچ کرانے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔ 26 اکتوبرکوطلبا اوریونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان بات چیت کے بعد انتظامیہ نے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے، احتجاج کے دوران جاری کئے گئے معطلی کے احکامات اوروجہ بتاؤنوٹس واپس لینے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اہلکاروں کے طرزعمل کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ تاہم، ابھی تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے حکم کے مطابق، طلبہ یونین کے آئین کو منظوری ملنے کے 15 دن بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔

 

پولیس نے کیا کارروائی کی؟

اس سے پہلے احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے کئی طلبا کوحراست میں لے لیا تھا۔ صورت حال کے پیش نظرپولیس اورنیم فوجی دستوں کی تعیناتی بڑھا دی گئی اوریونیورسٹی کے مرکزی دروازے (مین گیٹ) بند کردیئے گئے۔ اس کے بعد بعض طلبا گیٹ پھلانگ کرکیمپس میں داخل ہوئے۔ دوسری جانب، 27 اکتوبرکویونیورسٹی انتظامیہ نے مظاہرین کو دھرنے کی جگہ خالی کرنے کے لیے قانونی نوٹس بھی جاری کیا۔کیا طلبہ کی تحریک ختم ہوگئی ہے؟ یونیورسٹی انتظامیہ نے انتخابات کرانے، معطلی اوروجہ بتاؤنوٹس واپس لینے اورسیکورٹی اہلکاروں کے رویے کی جانچ کے حوالے سے اقدامات کیے ہیں، لیکن انتخابات کا عمل طلبہ یونین کے آئین کومنظوری ملنے سے مشروط ہے۔ انتظامیہ نے مظاہرہ ختم کرنے کوکہا ہے، جب کہ طلبہ کے بعض مطالبات اب بھی زیرالتوا ہونے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ ایسے میں طلبہ کی تحریک کومکمل طورپرختم قراردینا درست نہیں ہوگا۔

مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم

یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے اوراپنی سوشل میڈیا پوسٹس کوہٹانے پررضامندی ظاہرکی۔ تاہم، احتجاج کرنے والے طلبا نے انتظامیہ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ ان کا 16 روزہ احتجاج ان کے تمام مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ طلبا کا الزام ہے کہ یونیورسٹی نے طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اورانتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی مخصوص ٹائم فریم فراہم نہیں کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read