نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں خود کفالت حاصل کرنے کے ہندوستان کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اپنی قدیم سائنسی وراثت کو جدید اختراعات اور نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب کی جڑیں علم اور دریافت میں پیوست ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’صفر کی دریافت سے لے کر عددی نظام کی ترقی اور فلکیات کے شعبے میں پیش رفت تک، ہندوستانی تہذیب ہمیشہ علم اور دریافت پر مبنی رہی ہے۔ آج ہم جدید ٹیکنالوجی اور نئے اعتماد کے ساتھ اس سائنسی ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سامنے آنے والی مثالوں سے ان تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔‘‘
جوہری توانائی میں خود کفالت، توانائی کے تحفظ کی جانب اہم قدم
30 اکتوبر کو معروف جوہری سائنس داں ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابھا کی یوم پیدائش کے پیش نظر وزیر اعظم نے حالیہ سائنسی کامیابیوں کا جائزہ جوہری توانائی کے شعبے سے شروع کیا۔ انہوں نے جوہری توانائی کو ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے ایک اہم ستون قرار دیا اور کہا کہ ملک بیرونی ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان کے 500 میگاواٹ کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے چند ماہ قبل پہلی بار کریٹیکلٹی حاصل کی، جو ملک کے مقامی جوہری توانائی پروگرام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر جوہری توانائی کی ضرورت ہے۔ جوہری ایندھن کی درآمد پر ہمارا انحصار توانائی کے تحفظ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اسی لیے ہندوستان اپنی فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے۔ چند ماہ قبل ملک کے 500 میگاواٹ کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے پہلی بار کریٹیکلٹی حاصل کی، جو طویل مدتی توانائی خود انحصاری کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم کامیابی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جوہری توانائی، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر جیسے شعبوں کی ضروریات الگ الگ ہیں، لیکن ان سب سے ایک ہی پیغام ملتا ہے کہ ہندوستان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اپنی صلاحیت اور اعتماد دونوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
ہندوستانی ٹیکنالوجی دنیا کے لیے بھی مفید
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان میں تیار ہونے والے تکنیکی حل نہ صرف ملک کے اندر درپیش مسائل کو حل کر رہے ہیں بلکہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک اور ترقی یافتہ دنیا کے لیے بھی مثال بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کی ایک اور طاقت اس کے حل اور مہارتیں ہیں۔ جب کوئی حل ہندوستان میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ دنیا کے کئی ممالک کے مسائل حل کرنے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ ہمارا ڈیجیٹل اسٹیک اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ ہماری 5G ٹیکنالوجی بھی اس کی عمدہ مثال ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے تحقیق کو کسی بھی ملک کی تکنیکی صلاحیت اور خود کفالت کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق، تحقیق ہی وہ طاقت ہے جو کسی ملک کو اپنے مسائل کے حل تلاش کرنے اور اہم ٹیکنالوجیز میں خود انحصار بننے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے وہ ’’سائنس کی جے، تحقیق کی جے‘‘ کا نعرہ دیتے رہے ہیں۔
تحقیق و ترقی کے لیے 24 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری
وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت کی جانب سے لیبارٹریوں میں تیار ہونے والی ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے 12 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کے عہد کے برابر نجی سرمایہ کاروں نے بھی 12 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے، جنہیں بازار میں استعمال کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح صرف ایک سال میں تحقیق و ترقی کے لیے مجموعی طور پر 24 ہزار کروڑ روپے کی نئی سرمایہ کاری کا عہد کیا گیا ہے۔ مودی نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کی تیز رفتار پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے تحقیق، ترقی اور اختراع کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے فراہم کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔
صحت، زراعت اور تعلیم میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا کردار
وزیر اعظم نے کہا کہ ابھرتی ہوئی سائنس اور ٹیکنالوجی کا مقصد ایسے حل تیار کرنا ہے جو صحت کے شعبے کو مضبوط کریں، زراعت میں تبدیلی لائیں، تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں اور آفات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے اسٹارٹ اپس کی جانب سے پہننے کے قابل الیکٹرواینسیفالوگرافی (ای ای جی) آلات تیار کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا، جن کے ذریعے دماغی سرگرمیوں کو سمجھنے اور ان کی نگرانی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ہندوستان میں اسٹارٹ اپ انقلاب کے دوران اس طرح کے اہم موضوعات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مودی نے بتایا کہ ہندوستانی کمپنیاں مقامی سطح پر وائرلیس اور سیٹلائٹ مواصلاتی حل تیار کر رہی ہیں۔ غذائیت کے شعبے میں مخصوص غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعات بنائی جا رہی ہیں، جبکہ سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں بھی ہندوستانی کمپنیاں نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے صنعتی ضمنی مصنوعات، خصوصاً اسٹیل سلیگ، کو مفید اور ماحول دوست استعمال میں لانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
آئی آئی ٹی مدراس کے برین سینٹر کا حوالہ
وزیراعظم نے چنئی میں واقع آئی آئی ٹی مدراس کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے وہاں ایک جدید برین سینٹر کا افتتاح کیا تھا۔ یہ مرکز انسانی دماغ کی اعلیٰ ریزولیوشن والی ڈیجیٹل سہ جہتی تصاویر تیار کرنے اور دماغ و اعصاب سے متعلق پیچیدہ بیماریوں کو سمجھنے کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک مثالی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ مودی نے کہا کہ ’’سماج کے لیے سائنس‘‘ اور ’’تبدیلی کے لیے ٹیکنالوجی‘‘ کو سائنسی ترقی کا حتمی معیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان اسی اصول پر اپنی پیش رفت کو پرکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



