Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan OCI Case: بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ملک چھوڑنا پڑے گا یا ملے گی راحت؟ بامبے ہائی کورٹ میں کل ہوگا بڑا فیصلہ

FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ بامبے ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں طے ہوگا کہ اداکار کو راحت ملے گی یا انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا۔ جانئے پورا تنازع اور عدالت میں کیا بحث ہوئی۔

بالی ووڈ اداکار عمران خان بھارت میں رہ سکیں گے یا انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا، اس کا جواب اب 27 اکتوبر کو مل سکتا ہے۔ پیر کو بامبے ہائی کورٹ میں ان کی عرضی پر سماعت ہوئی، لیکن معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور عمران خان کی طرف سے سینئر وکلا وینکٹیش دھونڈ اور پرویز میمن نے عدالت سے مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے دونوں فریقوں کی بات سننے کے بعد معاملے کی اگلی سماعت منگل کی دوپہر مقرر کر دی۔ ایسے میں اب سب کی نظریں آئندہ سماعت پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ اسے عمران کے مستقبل کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

FRRO کے نوٹس نے بڑھائی پریشانی

عمران خان کو فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفیسر (FRRO) کی جانب سے 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ نوٹس اس واقعے کے بعد سامنے آیا، جب 10 اکتوبر کو ممبئی میں منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ان کی موجودگی کو لے کر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ یہ مظاہرہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق معاملے پر کیا گیا تھا۔ نوٹس ملنے کے بعد عمران نے راحت حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

عدالت میں مداخلت کی عرضی داخل

معاملے میں نیا موڑ اس وقت آیا، جب ایک دوسرے وکیل نے عدالت میں مداخلت کی عرضی دائر کرکے مرکزی حکومت کی کارروائی کی حمایت کی۔ وکیل سبھاش جھا نے اپنے موکل سنیل کمار کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ وہ بھی اس معاملے میں اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل، ہائی کورٹ میں جاری سماعت FRRO کی جانب سے جاری نوٹس کی قانونی حیثیت اور اس معاملے میں حکومت اور عمران خان، دونوں فریقوں کا موقف سننے کے لیے ہو رہی ہے۔

عمران کے طرز عمل پر اٹھائے گئے سوالات

مداخلت کی عرضی میں عمران خان کے مبینہ طرز عمل پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عرضی گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اداکار ایک ایسی تنظیم کے احتجاج میں شامل ہوئے، جس کے قوم مخالف عناصر سے تعلقات کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان کے طرز عمل پر اعتراض اٹھایا گیا ہے اور عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

وائرل تصاویر بھی بحث کا حصہ بنیں

عرضی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کچھ تصاویر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ جب پولیس عمران خان کو ایک وین میں لے جا رہی تھی، اس دوران ان کے ساتھ موجود کچھ خواتین سیلفی لیتی اور وکٹری سائن دکھاتی نظر آئیں۔ عرضی گزار نے سوال اٹھایا کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کی کارروائی کو اس طرح جشن کے طور پر پیش کرنا کس طرح مناسب سمجھا جا سکتا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ 44 سالہ عمران خان کو قانون کے ممکنہ نتائج کا مکمل اندازہ ہونا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی یہ دلیل بھی دی گئی کہ امریکی شہری ہونے کے ناطے انہیں کسی مظاہرے میں شامل ہونے سے پہلے اس سے متعلق قانونی پہلوؤں کو سمجھنا چاہیے تھا۔

OCI کارڈ ہولڈر ہونے کا دیا حوالہ

اپنی عرضی میں عمران خان نے کہا ہے کہ وہ 2006 سے شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 7A(1) کے تحت اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (OCI) کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کی پابندی کی ہے اور باقاعدگی سے ٹیکس بھی ادا کیا ہے۔ اداکار کا کہنا ہے کہ جس تنظیم نے مظاہرہ کیا تھا یا جن لوگوں نے اسے منعقد کیا، ان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

تجسس کے باعث پہنچے تھے مظاہرے کی جگہ

عمران کے مطابق، انہیں اس احتجاجی مظاہرے کی اطلاع میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ملی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ طلبہ مظاہرین وہاں کس مسئلے کو لے کر جمع ہوئے ہیں۔ اسی تجسس کے باعث وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اگست کرانتی میدان پہنچے تھے۔ اداکار نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرے سے ان کا براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں تھا۔

حراست میں لیے جانے پر بھی اٹھائے سوالات

عمران خان کا دعویٰ ہے کہ موقع پر پہنچنے کے بعد انہوں نے بیریکیڈنگ دیکھی اور پولیس سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف واپس جانے لگے۔ اسی دوران میڈیا نے انہیں پہچان لیا اور مظاہرے کے حوالے سے ان کا ردعمل جاننے کی کوشش کی۔ اداکار کا کہنا ہے کہ میڈیا سے بات چیت کے دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پولیس وین میں گھمایا گیا۔ اتنا ہی نہیں، ان کے مطابق پولیس نے انہیں ٹیکسی یا کیب بک کرنے کی اجازت بھی نہیں دی اور ایک ڈرائیور کو ان سے دور رہنے کی دھمکی دی گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read