چنئی: تمل ناڈو کے سابق وزیر تعلیم اور دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے) کے رہنما انبل مہیش پوئیاموزی کو پیر کے روز چنئی پولیس نے تقریباً 100 کروڑ روپے کے مبینہ نجی اسکول منظوری گھوٹالے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق، انہیں چنئی کے امین جکرائی علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا، جب مدراس ہائی کورٹ نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس وی لکشمی نارائنن نے انبل مہیش کی گرفتاری سے قبل ضمانت کی عرضی خارج کر دی تھی۔ اس معاملے کی تحقیقات گریٹر چنئی پولیس کی سینٹرل کرائم برانچ (سی سی بی) کر رہی ہے۔
سرکاری منظوریوں کے نام پر رقم وصول کرنے کا الزام
یہ معاملہ ڈی ایم کے حکومت کے گزشتہ دور سے متعلق ہے، جب انبل مہیش ریاست کے وزیر تعلیم تھے۔ الزام ہے کہ اس دوران نجی اسکولوں کی انتظامیہ سے پارٹی فنڈ کے نام پر رقم وصول کی گئی۔ مبینہ طور پر اسکولوں کو سرکاری منظوری، مستقل شناخت اور اسکولوں کو اعلیٰ درجے میں اپ گریڈ کرنے کی اجازت دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے دائرے میں ڈی ایم کے کے سابق ترجمان بی ٹی ارساکمار اور سابق رکن اسمبلی متھوکمار کے مبینہ کردار کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دونوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور محکمۂ اسکولی تعلیم تک رسائی کا دعویٰ کرتے ہوئے مختلف نجی اسکولوں کی انتظامیہ سے رقم وصول کی۔
177 نجی اسکولوں سے رقم لیے جانے کی تحقیقات
تمل ناڈو میں نجی اسکولوں کی انجمنوں کی فیڈریشن کے سکریٹری ڈی سی الانگوون کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، اسکولوں کو مستقل شناخت دلانے، اسکولوں کی اپ گریڈیشن کی منظوری حاصل کرنے، محکمۂ شہری و ملکی منصوبہ بندی (ڈی ٹی سی پی) سے کلیئرنس اور دیگر سرکاری اجازت نامے دلانے کے عوض رقم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم، کئی شکایت کنندگان نے الزام لگایا کہ وعدے کے باوجود انہیں مطلوبہ سرکاری منظوری نہیں ملی اور نہ ہی ان کی رقم واپس کی گئی۔
100 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کا شبہ
پولیس اب تک ایسے الزامات کی تحقیقات کر چکی ہے جن میں مبینہ طور پر 177 نجی اسکولوں نے وعدہ کی گئی منظوریوں کے لیے رقم ادا کی تھی۔ تفتیش کار یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا رقم وصول کرنے کا یہ سلسلہ تمل ناڈو کے دیگر تعلیمی اداروں تک بھی پھیلا ہوا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث مجموعی رقم 100 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





