فرانس میں احتجاج کے دوران تشدد اورلوٹ مارکے واقعات کے بعد حکومت نے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ فرانس کے وزیراعظم سیباستیاں لیکورنونے پیر(19 اکتوبر2026) کوفسادات سے متاثرہ علاقوں میں جزوی کرفیونافذ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے علاقائی حکام سے کہا کہ وہ پیرکی شام سے بعض شہروں میں کرفیونافذ کریں۔ وزیراعظم کے مطابق، یہ اقدامات مقامی سطح پرکئے جائیں گے، جن کا مقصد کاروباری اداروں اوردکانوں کوتحفظ فراہم کرنا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے آخرمیں ہونے والے مظاہروں کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا، جوحالیہ برسوں میں سڑکوں پرہونے والے سنگین پرتشدد واقعات میں شمارکیا جا رہا ہے۔
فرانس کے کن شہروں میں نافذ ہوگا کرفیو؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم سیباستیاں لیکورنونے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ ملک کے کن شہروں میں جزوی کرفیونافذ کیا جائے گا اوراس پرعمل درآمد کا طریقہ کیا ہوگا۔ تاہم، انہوں نے دارالحکومت پیرس میں مکمل کرفیونافذ کیے جانے کے امکان کومسترد کردیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ احتجاج اورتشدد سے متاثرہونے والے کاروباری اداروں کے ملازمین کے لیے منگل (20 اکتوبر) سے عارضی رخصت سے متعلق سہولتیں فراہم کی جائیں گی، تاکہ متاثرہ کاروباریوں کوراحت مل سکے۔
صدرمیکرون نے انٹیلی جنس میں خامیوں کا اعتراف کیا
فرانس میں احتجاج اورفسادات کے معاملے پرصدرایمینوئل میکرون نے اعتراف کیا ہے کہ حالات سے نمٹنے کی تیاری اورانٹیلی جنس کے شعبے میں خامیاں رہ گئی تھیں۔ تاہم، انہوں نے وزیرداخلہ لوراں نونیزکے استعفے کے امکان کومسترد کردیا۔ رپورٹ کے مطابق، وزیرداخلہ لوراں نونیزنے بھی پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کے حالات پرقابوکھو دینے کی بات تسلیم کی تھی۔ واضح رہے کہ فرانس میں یہ مظاہرے بنیادی طورپرمہنگائی اورروزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف کئے گئے تھے۔
جھڑپوں میں 2400 افراد گرفتار، ایک ہزار اہلکار زخمی
فرانس میں ہفتہ (17 اکتوبر) کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران تقریباً 2400 افراد کو گرفتار کیا گیا، جب کہ لگ بھگ 1000 پولیس اہلکار اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ اس دوران ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوٹ ماراورآتش زنی کے واقعات بھی پیش آئے۔ اتوارکوبھی فرانس کے مختلف علاقوں سے لوٹ ماراورگرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تازہ واقعات کے بعد حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امن وامان بحال کرنے اورکاروباری اداروں کوتحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیزکردیئے ہیں۔ جزوی کرفیو کے نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



