Bharat Express DD Free Dish

France News

ایمانوئل میکرون نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک میں پرتشدد مظاہروں کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فرانس میں ہونے والے فسادات کا کسی مخصوص مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حال ہی میں بڑھتی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کر لی تھی۔

فرانس میں احتجاج اورفسادات کے معاملے پر صدر ایمینوئل میکرون نے اعتراف کیا ہے کہ حالات سے نمٹنے کی تیاری اور انٹیلی جنس کے شعبے میں خامیاں رہ گئی تھیں۔ تاہم، انہوں نے وزیر داخلہ لوراں نونیز کے استعفے کے امکان کومسترد کردیا۔ رپورٹ کے مطابق، وزیرداخلہ لوراں نونیزنے بھی پر تشدد مظاہروں کے دوران پولیس کے حالات پرقابوکھو دینے کی بات تسلیم کی تھی۔

فرانس میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ لیون اور مارسی سمیت کئی شہروں میں لوئی ویتوں اور ہرمیس جیسے مہنگے برانڈز کے اسٹورز میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ تشدد کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 1200 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق مظاہروں کے آغاز سے اب تک 6100 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں زیادہ تر کی عمر 18 سال سے کم ہے۔ وزارت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ 1800 سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا، جن میں 1483 نابالغ شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران کم از کم 215 نوجوان اور 715 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔