Bharat Express DD Free Dish

France Protests Inflation Violence: فرانس میں پرتشدد مظاہرے، لگژری برانڈز کے شوروم لوٹے گئے، گاڑیوں کو لگا دی گئی آگ

فرانس میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ لیون اور مارسی سمیت کئی شہروں میں لوئی ویتوں اور ہرمیس جیسے مہنگے برانڈز کے اسٹورز میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ تشدد کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 1200 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

فرانس میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ہفتے کے روز ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں پرتشدد جھڑپوں اور لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان مظاہروں میں 5 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر اترے۔ اس دوران شرپسندوں کے کئی گروہوں نے مشہور لگژری برانڈز کے شورومز کو نشانہ بنایا۔ لیون شہر میں لوئی ویتوں اور ہیوگو باس کے اسٹورز پر حملے کیے گئے، جبکہ مارسی میں ہرمیس کے بوتیک اور زیورات کی کئی دکانوں میں توڑ پھوڑ کرکے سامان لوٹ لیا گیا۔ دارالحکومت پیرس کے علاوہ لیل، نیس اور بورڈو جیسے شہروں میں بھی ایپل اسٹورز، سپر مارکیٹوں اور موبائل فون کی دکانوں میں لوٹ مار کی گئی۔ حکام کے مطابق، کئی مقامات پر نقاب پوش لٹیروں نے حفاظتی کیمروں کو نقصان پہنچایا اور دکانوں کے شیشے توڑ کر چوری کی۔ اس دوران بعض گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی اور سرکاری دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

کن وجوہات سے تشدد بھڑکا؟

ان مظاہروں کی اہم وجہ بے تحاشہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتوں، بڑھتے ہوئے کرایوں اور کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہونے کے باعث عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ابتدا میں طلبہ نے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور خراب انتظامی نظام کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ بعد میں تجارتی یونینوں، مزدوروں اور پنشن حاصل کرنے والوں کی شمولیت کے بعد یہ احتجاج وسیع ہو گیا۔ فرانس میں آئندہ صدارتی انتخابات سے پہلے سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کو بھی ان کشیدگیوں کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تشدد اور لوٹ مار کے الزام میں 1200 افراد گرفتار

فرانسیسی حکام نے تشدد اور لوٹ مار کے لیے بنیادی طور پر انتہا پسند بائیں بازو کے گروہوں اور موقع پرستی سے فائدہ اٹھانے والے جرائم پیشہ افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق، سیاہ لباس پہنے اور نقاب پوش نوجوانوں کے گروہوں نے ان پرتشدد واقعات کو انجام دیا۔

مسلم مہاجرین پر بھی لگائے جا رہے ہیں الزامات

تشدد اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اب تک تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 150 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس تشدد کے لیے عرب اور افریقی ممالک سے آنے والے مسلم مہاجرین کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ وائرل ویڈیوز کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ توڑ پھوڑ کرنے والوں میں زیادہ تر مہاجرین شامل ہیں، تاہم حکام کی جانب سے اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب، بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد اور لوٹ مار کے باعث مقامی تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاجروں کی سال بھر کی محنت چند گھنٹوں میں برباد ہو گئی۔ حکومت نے متاثرہ کاروباری افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور شرپسندوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read