Bharat Express DD Free Dish

Sergio Gor India 100 Percent Tariff: کیا بھارت پر لگے گا 100 فیصد ٹیرف؟ سرجیو گور کے بیان سے عالمی سیاست میں ہلچل، 10 دن میں فیصلہ لے سکتے ہیں ٹرمپ

امریکہ کا روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے پر غور، بھارت کو بھی ہو سکتا ہے نقصان؛ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ

نئی دہلی: امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات کے حوالے سے ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ امریکہ روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک درآمدی محصولات عائد کر سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آئندہ 10 دنوں کے اندر اس معاملے پر اہم فیصلہ لے سکتے ہیں۔ سرجیو گور نے بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں گفتگو کے دوران بتایا کہ امریکی انتظامیہ روس سے توانائی خریدنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کے دائرے میں بھارت سمیت وہ ممالک بھی آ سکتے ہیں جو روس سے بڑے پیمانے پر تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔ اگر امریکہ اس تجویز کو نافذ کرتا ہے تو اس کا اثر بھارت کے تجارتی تعلقات اور روس سے توانائی کی خریداری پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، بھارت پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

کیا ہے نیا امریکی قانون؟

رواں سال 18 ستمبر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’لنڈسے گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ‘ (ایس آر آئی اے) کو منظوری دے کر قانون کی شکل دے دی تھی۔ اس قانون کے تحت روس سے بڑے پیمانے پر تیل اور گیس خریدنے والے ممالک یا پابندیوں سے بچنے میں روس کی مدد کرنے والوں کی درآمدات پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

امریکی سفیر سرجیو گور کے مطابق، امریکی کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے پابندیوں کے یہ ضابطے کسی ایک مخصوص ملک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہیں، لیکن ان کے دائرے میں بھارت جیسے ممالک بھی آ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان پابندیوں سے متعلق معاملات کو بنیادی طور پر تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں روس سے تیل کی خریداری، گیس کی درآمد اور پابندیوں کے ضابطوں کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ اس قانون کے تحت ممکنہ کارروائی اور محصولات کی شرح کے بارے میں حتمی فیصلہ امریکی صدر کو کرنا ہے۔ ایسے میں آئندہ 10 دنوں کے دوران ٹرمپ کا فیصلہ بھارت سمیت روس سے توانائی خریدنے والے دیگر ممالک کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کیا بولے امریکی سفیر؟

سرجیو گور سے جب پوچھا گیا کہ کیا بھارت کو مجوزہ پابندیوں سے کوئی رعایت یا چھوٹ مل سکتی ہے تو انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہی کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی امریکی سفیر نے بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر مثبت تبصرہ کیا۔ ان کے مطابق، گزشتہ ڈیڑھ سال سے دونوں ممالک کے درمیان پیچیدہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن تجارتی معاہدے کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ گور نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی بڑے اور اہم معاملات پر اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے اور اب صرف چند چھوٹے معاملات کو حل کرنا باقی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ دفاع، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز اور چِپ سازی سمیت مختلف شعبوں میں بھارت کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہش مند ہے۔ اس طرح ایک طرف دونوں ممالک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری طرف روس سے توانائی کی خریداری کے معاملے پر امریکی پابندیوں کا امکان بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔ آئندہ دنوں میں صدر ٹرمپ کا فیصلہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read