Bharat Express DD Free Dish

us india

بھارتی مسلح افواج کی عملی تیاری اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کے دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت پیکیج کو منظوری دی گئی ہے۔

بھارت اور امریکہ نے دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ اور مجرموں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی خریداری کے مختلف معاہدوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید فروغ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ ہمارے لیے بھارت سے زیادہ اہم کوئی ملک نہیں ہے۔ تجارتی معاہدے پر دونوں ممالک کے درمیان کل بات چیت ہوگی، جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ آئندہ سال بھارت کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

نو منتخب امریکی سفیر سرجیو گور نے ہفتہ کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کو ہندوستان امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ گور نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پی ایم مودی کو "بہت اچھا دوست" سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ٹرمپ دور کی درآمدی محصولات پر اختلافات جاری ہیں۔ 27 اگست سے نافذ ہونے والی ان محصولات کے تحت بھارت سے درآمدی اشیاء پر 50 فیصد تک ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

حکام نے خلائی صنعت پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ امریکہ اور ہندوستانی تجارتی خلائی شعبوں کو مضبوط کرنے کے لیے اختراعی طریقے تلاش کیے جا سکیں۔

امریکہ مسلسل چین کے متبادل کی تلاش میں ہے اور بھارت وہاں بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ یہ بھی جانتا ہے کہ بھارت اسلحے کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ بھارت مہنگے ہتھیاروں کی خریداری میں پیچھے نہیں ہٹتا۔ اب تک زیادہ تر ہتھیار امریکہ سے نہیں خریدے گئے تھے کیونکہ وہ صرف ہتھیار فراہم کرتا تھا اور ان کے ساتھ ٹیکنالوجی منتقل نہیں کرتا تھا۔

جنوری اور اپریل 2023 کے درمیان چار مہینوں میں امریکہ-بھارت شراکت داری میں توسیع ہوتی رہی۔دفاع، ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون کے دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا۔