Bharat Express DD Free Dish

Prime Minister Narendra ​Modi: دسمبر میں کینیڈا جا سکتے ہیں پی ایم مودی، بھارتی کمیونٹی میں جوش، تجارت سے سکیورٹی تک کئی امور پر ہوگی بات چیت

وزیر اعظم نریندر مودی کے ممکنہ دورہ کینیڈا سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کو نئی سمت ملنے کی امید ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک کے مطابق، دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور سکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے دسمبر میں متوقع دورہ کینیڈا کو لے کر دونوں ممالک میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تقریباً 11 سال بعد پی ایم مودی کے کینیڈا جانے کا امکان ہے۔ ایسے میں وہاں مقیم بھارتی نژاد افراد بھی اس دورے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ کینیڈا میں بھارت کے ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیش کے پٹنائک نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ سیاسی سطح پر بات چیت بڑھنے کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، خلائی تحقیق، زراعت، تعلیم اور سکیورٹی جیسے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں ممالک اب ایسے مرحلے پر پہنچ رہے ہیں جہاں وزیر اعظم مودی کا کینیڈا دورہ اس عمل کو آگے بڑھانے کی فطری اگلی کڑی ثابت ہو سکتا ہے۔

11 سال بعد کینیڈا جا سکتے ہیں پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے آخری بار 2015 میں کینیڈا کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد اب ان کے مجوزہ دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دنیش کے پٹنائک نے بتایا کہ بھارت اور کینیڈا کے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں گزشتہ سال اس وقت تیزی آئی، جب پی ایم مودی نے کینیڈا کے شہر کناناسکس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے انہیں اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس دوران دونوں لیڈروں نے اپنے اپنے ممالک کے ہائی کمشنروں کو دوبارہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے واپس بھیجنے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد ستمبر میں دونوں ہائی کمشنروں نے دوبارہ اپنے عہدوں کا چارج سنبھال لیا۔ پٹنائک کے مطابق، اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور بات چیت کا سلسلہ مسلسل بڑھا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے رواں سال فروری اور مارچ میں بھارت کا دورہ کیا، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ 12 سے زیادہ مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ دفاع، تجارت، توانائی، قدرتی وسائل اور تعلیم جیسے موضوعات پر بھی دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ حال ہی میں کینیڈا کے قومی سلامتی کے مشیر کا بھارت دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے پر نظر

پی ایم مودی کے ممکنہ دورے کے دوران اقتصادی تعاون پر بھی خصوصی توجہ دیے جانے کی امید ہے۔ بھارت اور کینیڈا کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے، یعنی سیپا (CEPA)، پر بات چیت جاری ہے۔ اب تک مذاکرات کے چار دور مکمل ہو چکے ہیں۔ پٹنائک نے بتایا کہ اس معاہدے پر مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں جوہانسبرگ میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے دوران ایک سال کے اندر مذاکرات مکمل کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ بھارتی ہائی کمشنر کو امید ہے کہ نومبر تک بات چیت مکمل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جب پی ایم مودی کینیڈا پہنچیں تو اس وقت تک دونوں ممالک معاہدے پر دستخط کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، معاہدے پر دستخط ہونا ابھی طے نہیں ہے اور اس کا انحصار مذاکرات کی تکمیل پر ہوگا۔ پٹنائک نے کہا کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو صرف تجارت تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ دفاع، ایرو اسپیس، خلائی تحقیق، زراعت، خوراک، سکیورٹی، تعلیم اور ثقافتی تبادلے جیسے امور بھی اس شراکت داری کا حصہ ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے اعظم کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ قیادت کے تعاون سے ہی تعلقات کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔

کینیڈا میں مقیم تقریباً 30 لاکھ بھارتی نژاد افراد کو پی ایم مودی کا انتظار

وزیر اعظم مودی کے ممکنہ دورے کو لے کر کینیڈا میں مقیم بھارتی نژاد افراد میں بھی خاصا جوش و خروش ہے۔ دنیش کے پٹنائک کے مطابق، انہیں مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ پی ایم مودی کینیڈا کب آئیں گے اور انہیں ان سے ملاقات کا موقع کیسے مل سکتا ہے۔ کینیڈا کی 2021 کی مردم شماری کے مطابق، وہاں بھارتی نژاد افراد کی آبادی تقریباً 30 لاکھ ہے۔ اس کمیونٹی میں مختلف مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی برادریوں کے علاوہ بڑی تعداد میں بھارتی طلبہ، محققین، اساتذہ اور کاروباری افراد بھی کینیڈا میں رہتے ہیں۔ پٹنائک نے بتایا کہ ان تمام طبقات کے لوگ وزیر اعظم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم، اتنی بڑی کمیونٹی کے ہر فرد سے ملاقات ممکن نہیں ہوگی، لیکن کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس دورے سے جڑنے کا موقع مل سکے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد ہونے والے اس دورے کے حوالے سے بھارتی کمیونٹی کی دلچسپی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں عوامی رابطوں کا اہم کردار ہے۔

سکیورٹی اور دہشت گردی کے امور پر بھی تعاون بڑھانے کی کوشش

بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں سکیورٹی کا معاملہ طویل عرصے سے حساس رہا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی، بین الاقوامی جرائم اور ملزمان کی حوالگی جیسے موضوعات پر تعاون بڑھانے کی کوششوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ پٹنائک نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان بات چیت اور تال میل میں اضافہ ہوا ہے۔ سرحد پار جرائم، دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، جبری وصولی اور منظم جرائم جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں فریق مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ستمبر میں کینیڈا کی قومی سلامتی کی مشیر بھارت آئی تھیں، جہاں انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوبھال کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ اس کے بعد اجیت ڈوبھال نے بھی فروری میں کینیڈا کا دورہ کیا۔ بھارتی ہائی کمشنر کے مطابق، اب دونوں ممالک کے درمیان اس بات کو لے کر بہتر سمجھ پیدا ہو رہی ہے کہ سکیورٹی کے بعض چیلنجز کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ کینیڈا میں ہونے والی بعض مجرمانہ سرگرمیاں بھارت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ ان کا اثر کینیڈا کی سکیورٹی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

سکیورٹی حکام کے درمیان بڑھتا تال میل تعلقات کے لیے اہم

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور کینیڈا کے وزیر اعظم کے سینئر مشیر ڈیوڈ موریسن کے درمیان حالیہ بات چیت کو بھی پٹنائک نے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سکیورٹی نظام کے درمیان بہتر تال میل کے بغیر دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں فریقوں نے اعتماد بڑھانے اور ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھنے کی سمت میں کام کیا ہے۔ بھارت اور کینیڈا کے متعلقہ ادارے متعدد امور پر تعاون کر رہے ہیں۔ ان میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی)، بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔ اس تعاون کا دائرہ صرف دہشت گردی تک محدود نہیں ہے۔ امیگریشن سے متعلق معاملات، منشیات کی اسمگلنگ، جبری وصولی، منظم جرائم، منی لانڈرنگ اور سائبر سکیورٹی جیسے موضوعات بھی اس میں شامل ہیں۔ پٹنائک کے مطابق، سکیورٹی سے متعلق معاملات ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ رہے ہیں۔ اب بات چیت اور باہمی تعاون کے ذریعے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دسمبر تک کئی شعبوں میں ٹھوس پیش رفت کی امید

دنیش کے پٹنائک کو امید ہے کہ وزیر اعظم مودی کے مجوزہ دورہ کینیڈا تک دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاملات پر مزید پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔ تجارتی معاہدے سے لے کر سکیورٹی تعاون تک، دونوں فریق اپنے تعلقات کو وسیع کرنے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔ فی الحال، اس دورے کی اہمیت صرف وزیر اعظم کے کینیڈا جانے تک محدود نہیں ہے۔ اس کے ذریعے بھارت اور کینیڈا کے درمیان اقتصادی شراکت داری، سکیورٹی تعلقات اور عوامی رابطوں کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read