نئی دہلی، 12/اکتوبر: دہلی ہائی کورٹ نے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے قومی سکریٹری ندیم خان کی مبینہ حراست اور پولیس نگرانی کے معاملے میں دہلی پولیس سے جواب طلب کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پیر کے روز سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ وہ کسی شخص کے گھر میں اس طرح کیسے داخل ہو سکتی ہے اور اسے ڈیٹین رکھنے کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل ڈویژن بینچ, ندیم خان کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ 29 ستمبر کو پولیس نے انہیں جنتر منتر پر مجوزہ پُرامن احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے کئی گھنٹوں تک ڈٹینڈ رکھا۔ عدالت نے درخواست پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سماعت کے دوران بینچ نے پولیس کے وکیل سے سوال دریافت کیا کہ کسی شخص کے گھر میں داخل ہونے اور اسے ڈٹینڈ رکھنے کا اختیار کہاں سے حاصل ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کو اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کا حق حاصل ہے، مگر اس کے استعمال کے لیے قانونی بنیاد بھی ضروری ہے۔ بینچ نے سماعت کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ احتجاج کی اجازت دینے یا نہ دینے کا معاملہ الگ ہے، تاہم کسی شخص کو ڈٹینڈ رکھنے کے قانونی جواز کی وضاحت ضروری ہے۔
ندیم خان کی جانب سے پیش ہونے والی وکیل شاہ رخ عالم نے عدالت کو بتایا کہ 29 ستمبر کو پولیس اہلکار بغیر کسی نوٹس یا تحریری حکم کے ان کے موکل کے گھر اور اسی احاطے میں واقع دفتر پہنچے اور صبح تقریباً 9:30 بجے سے شام 5:30 بجے تک وہاں موجود رہے۔ ان کے مطابق، اس دوران ندیم خان کو باہر جانے اور جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت سے روکا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس واقعے کے بعد سے ندیم خان کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور انہیں بار بار فون کرکے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ندیم خان کو نہ تو حراست کی کوئی تحریری وجہ بتائی اور نہ ہی کوئی باضابطہ نوٹس دکھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2 اکتوبر کو بھی، جب ندیم خان کی والدہ کی طبیعت خراب تھی، پولیس کی جانب سے ان سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، مسلسل نگرانی اور مداخلت کے باعث ندیم خان کو ہراسانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کارروائی کو غیر قانونی اور ہراسانی قرار دیا جائے۔
دوسری جانب دہلی پولیس کے وکیل نے ندیم خان کو حراست میں لیے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار صرف معلومات حاصل کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے وہاں گئے تھے۔ ان کے مطابق، ندیم خان نے 29 ستمبر کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی بات کہی تھی، لیکن اجازت مسترد کیے جانے کے بعد شاہین باغ پولیس اسٹیشن کو اطلاع ملی کہ وہ اس کے باوجود احتجاج کر سکتے ہیں۔ پولیس کے وکیل نے کہا کہ اہلکار شام 5:30 بجے وہاں سے واپس چلے گئے اور اس کے بعد دوبارہ پولیس ان کے پاس نہیں گئی۔
عدالت نے اپنے حکم میں پولیس کے وکیل کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا کہ اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد صرف ندیم خان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا۔ بینچ نے یہ بھی درج کیا کہ فی الحال عرضی گزار کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ عدالت نے پولیس کے اس بیان کو بھی قبول کیا کہ اب ندیم خان کو فون نہیں کیے جائیں گے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے نوٹس جاری نہ کرنے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے کہا کہ پولیس کو پہلے ہی درخواست کی نقل فراہم کر دی گئی تھی اور اسے سماعت کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا۔
درخواست کے مطابق، ندیم خان کو جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر، ابوالفضل انکلیو میں مبینہ طور پر ڈٹینڈ رکھا گیا تھا تاکہ وہ عبادت گاہوں پر حملوں اور ایس آئی آر کے دوران شہریوں کے نام خارج کیے جانے کے خلاف جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت نہ کر سکیں۔ عرضی گزار نے الزام لگایا ہے کہ انہیں نہ تو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا، نہ حراست کی تحریری وجوہات فراہم کی گئیں، اور نہ ہی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا یا ان کے اہلِ خانہ کو اس بارے میں اطلاع دی گئی۔
درخواست میں دہلی پولیس کے ایک غیر مؤرخہ امتناعی حکم کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت نئی دہلی ضلع میں جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے، مظاہرے، دھرنے، تقریر اور بینر یا پلے کارڈ لے جانے پر پیشگی تحریری اجازت کے بغیر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ندیم خان کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی عمومی پابندی آئین کے آرٹیکل 19(1)(A) اور 19(1)(B) کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار اور پُرامن احتجاج کے بنیادی حقوق کے علاوہ آرٹیکل 14 اور 21 کی بھی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ احتجاج کی اجازت کے لیے 19 ستمبر کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں درخواست دی گئی تھی، لیکن اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں ایک نامعلوم فون کال کے ذریعے احتجاج کی اجازت منسوخ کیے جانے کی اطلاع دی گئی، جس پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے رجوع کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا۔ درخواست گزار کے مطابق، مجوزہ احتجاج پُرامن تھا اور اس سے تشدد، امن و امان کی خرابی یا کسی جرم کے ارتکاب کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔
ندیم خان نے اپنی درخواست میں مبینہ حراست، مسلسل نگرانی اور ہراسانی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ ان کی جانب سے ایڈووکیٹس چنمیے کنوجیا، ارچت کرشنا، تمنا پنکج اور پریا وتس نے عرضی دائر کی ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے دو ہفتوں کے اندر اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



