نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کی احتجاجی مہم تیز ہوگئی ہے۔ پیر کے روز کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے لیڈرؤں نے بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے منڈی ہاؤس کے قریب انہیں روک دیا۔ اس دوران راہل گاندھی، اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر کئی اپوزیشن لیڈر موجود تھے۔ دوسری جانب راہل گاندھی کی قانونی ٹیم سپریم کورٹ پہنچی اور عرضی داخل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ بعد میں ٹیم نے راہل گاندھی بنام الیکشن کمیشن کے عنوان سے عرضی داخل کردی۔
اپوزیشن کے کئی بڑے لیڈر مارچ میں شامل
اس احتجاج میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا سمیت انڈیا اتحاد کی کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ اور لیڈر بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ لیڈرؤں کو بسوں کے ذریعے سپریم کورٹ کی جانب لے جانے کی کوشش کی گئی، لیکن پولیس نے راستے میں ہی ان کی گاڑیوں کو روک دیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو، ممتا بنرجی، نیہا بورا اور دیگر لیڈر پیدل آگے بڑھنے لگے۔ تاہم، منڈی ہاؤس پہنچنے پر پولیس نے مارچ کو آگے جانے سے روک دیا۔ اس کے بعد لیڈرؤں نے وہیں رک کر الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے لگائے۔
راہل گاندھی نے مارچ کو ’شیو جی کی بارات‘ قرار دیا
مارچ شروع ہونے سے پہلے راہل گاندھی نے تقریباً 40 منٹ تک میڈیا سے بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی یہ تحریک کسی سیاسی پروگرام سے زیادہ ’شیو جی کی بارات‘ جیسی ہے، جس میں کوئی بھی شخص شامل ہوسکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے بات ہوئی ہے تو راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے پیغامات آتے رہتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ان کی پریس کانفرنس بھی دیکھ رہے ہوں۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی۔
چیف جسٹس کو پہلے ہی لکھا گیا تھا خط
اس احتجاج کی تیاری پہلے سے جاری تھی۔ اتوار کے روز اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کو خط لکھ کر ملاقات اور میمورنڈم پیش کرنے کے لیے وقت مانگا تھا۔ اپوزیشن کی کوشش تھی کہ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سے متعلق اپنے الزامات اور مطالبات براہِ راست عدلیہ کے سامنے رکھے جائیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت سپریم کورٹ تک مارچ کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
احتجاجی مارچ اور عرضی داخل کرنے کی کوششوں کے درمیان سپریم کورٹ کی جانب سے بھی صورت حال واضح کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ کوئی بھی وکیل یا شخص خود رجسٹری میں جاکر عرضی اور دیگر درخواستیں جمع کراسکتا ہے، اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تاہم، مقررہ طریقۂ کار کے تحت داخلے کا اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ عدالت انتظامیہ محدود تعداد میں اجازت نامے جاری کرتی ہے اور پورا انتظام اس کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو عوامی مفاد یا ذاتی معاملے میں عرضی دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اگر کوئی تنظیم بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے تو بیرونی سلامتی کے انتظامات کی ذمہ داری دہلی پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کی ہوتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ احتجاجی مظاہروں کا مقام نہیں ہے۔
کئی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈر بھی ہوئے شریک
انڈیا اتحاد کے احتجاج میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سنجے راوت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی مہوا ماجھی اور ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا سمیت کئی اپوزیشن لیڈر شامل ہوئے۔ مارچ سے پہلے تمام لیڈر کانسٹی ٹیوشن کلب میں جمع ہوئے تھے۔ یہاں انہوں نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی تیار کی، جس کے بعد مارچ میں حصہ لیا۔
بھوپندر سنگھ ہڈا کا مرکز پر حملہ
احتجاج کے دوران کانگریس لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی آواز دبانا چاہتی ہے، لیکن جمہوریت میں لوگوں کی آواز کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جاسکتا۔ ہڈا نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے اتحاد سے حکومت بے چین ہے اور اسی وجہ سے احتجاج کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
’چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے‘: سچن پائلٹ
کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سخت الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے کانگریس کارکن راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں دہلی پہنچے ہیں اور سب کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ ان کی بات سنے۔ پائلٹ نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں۔ ان کے مطابق، اپوزیشن جن معاملات کو ’ووٹ چوری‘ قرار دے رہی ہے، ان کے حق میں شواہد موجود ہیں اور اسی لیے جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد ضروری ہوگئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
’تحریک جاری رہے گی‘
سچن پائلٹ نے کہا کہ اپوزیشن پرامن اور گاندھی وادی طریقے سے اپنی بات رکھنا چاہتی ہے، لیکن پولیس طاقت کا استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں اور لیڈرؤں کو حراست میں لیا جارہا ہے۔ وہیں، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک دن کے احتجاج تک محدود نہیں ہے۔ ان کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ان کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر یہ مہم آگے بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک استعفیٰ نہیں ہوتا اور قانونی کارروائی نہیں کی جاتی، احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




