راجستھان کے اجمیر ضلع کے کشن گڑھ سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں گاڑی پارک کرنے کو لے کر شروع ہونے والا معمولی تنازع دیکھتے ہی دیکھتے بڑھ گیا۔ ٹریفک سی او انجو یادو اور وکیل بابولال باگریا کے درمیان تلخ کلامی کے بعد سڑک پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ الزام ہے کہ خاتون پولیس افسر نے سب کے سامنے وکیل کو تھپڑ مار دیا۔ اس واقعے کے بعد وکلا میں شدید ناراضگی پھیل گئی۔ مبینہ تھپڑ مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
معافی مانگنے کے باوجود تنازع ختم نہیں ہوا
موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ جمعہ کی شام تقریباً 7 بجے مدن گنج تھانہ علاقے کی مصروف سٹی روڈ پر پیش آیا۔ وکیل بابولال باگریا کشن گڑھ کے مرکزی بازار میں سبزی خریدنے آئے تھے۔ انہوں نے اپنی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کی اور منڈی کے اندر چلے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہیں پولیس کی جانب سے فون آیا کہ ان کی گاڑی غلط جگہ پارک کی گئی ہے۔ جب وکیل اپنی گاڑی کے پاس پہنچے تو وہاں ٹریفک سی او انجو یادو موجود تھیں۔وکیل کا الزام ہے کہ غلطی کا احساس ہونے پر انہوں نے فوراً اپنی کوتاہی تسلیم کرلی اور معافی مانگتے ہوئے آئندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم، اس کے باوجود تنازع ختم نہیں ہوا۔ الزام ہے کہ خاتون افسر نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی، گاڑی کی چابی اپنے قبضے میں لے لی اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔اسی دوران دونوں کے درمیان کھینچا تانی اور تھپڑ مارے جانے کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
وکلا نے سڑک جام کرکے احتجاج کیا
واقعے کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔ اس کے خلاف بار ایسوسی ایشن کے سیکڑوں وکلا مرکزی بازار میں سڑکوں پر اتر آئے۔ وکلا نے سڑک جام کرکے زبردست احتجاج کیا اور مبینہ طور پر ملوث ٹریفک سی او کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اچانک شروع ہونے والے احتجاج کے باعث بازار میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ ہوگیا۔
پولیس افسران نے وکلا کو منانے کی کوشش کی
صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد انتظامیہ نے موقع پر اضافی پولیس فورس تعینات کردی۔ سٹی سی او دھرما راج چودھری سمیت تین تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس افسران نے رات بھر وکلا کو سمجھانے اور احتجاج ختم کرانے کی کوشش کی۔بالآخر بار ایسوسی ایشن کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد رات تقریباً 10:30 بجے دھرنا ختم کرایا جاسکا، جس کے بعد ٹریفک بحال ہوگیا۔
فی الحال یہ معاملہ پولیس اور وکلا کے درمیان بڑے تنازع کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ واقعے کی جانچ جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

