Bharat Express DD Free Dish

US-Russia Oil Deal: امریکہ اور روس کے درمیان تیل معاہدے پر یوکرین کی تنقید، وزیر خارجہ بولے، ’کمزور حکمت عملی کبھی مضبوط نتائج نہیں دیتی‘

زیلنسکی نے روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کی، امریکہ سے یوکرین اور روس کے درمیان توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے باہمی معاہدہ کرانے کی اپیلزیلنسکی نے روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کی، امریکہ سے یوکرین اور روس کے درمیان توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے باہمی معاہدہ کرانے کی اپیل

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے امریکہ اور روس کے درمیان تیل معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور حکمت عملی کبھی مضبوط نتائج نہیں دیتی۔ انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے اس بیان کی حمایت کی، جس میں انہوں نے روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے امریکہ اور روس کے درمیان تیل معاہدے کو ’مضبوط شراکت داروں کا کمزور فیصلہ‘ قرار دیا تھا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے کے بعد دوہرے معیار کے الزامات بھی تیز ہوگئے ہیں۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس معاہدے پر سخت تنقید کی ہے۔
سیبیہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’کمزور حکمت عملی کبھی مضبوط نتائج نہیں دیتی، بالکل اسی طرح جیسے خوشامد سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا۔‘‘
روس پر پابندیاں ہٹانے کے خلاف زیلنسکی کا انتباہ
زیلنسکی نے کہا کہ اگر کشیدگی میں واضح اور پائیدار کمی لانے والے کسی معاہدے کے بغیر روس پر عائد پابندیاں ہٹائی جاتی ہیں تو یہ کمزوری کا اشارہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے روس کو فائدہ پہنچے گا اور اسے مزید لوگوں کی جان لینے، جنگ کو طول دینے، امریکہ کی کم عزت کرنے اور دنیا کو زیادہ نقصان پہنچانے کا موقع ملے گا۔زیلنسکی کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن کو دیے جانے والے تحفے نہ تو امن قائم کریں گے اور نہ ہی مہذب دنیا کو کوئی فائدہ پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس ڈیزل کے اس معاہدے کے جواب میں مزید دہشت اور دھوکہ دہی کا راستہ اختیار کرے گا۔
’روس کو پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت جنگ میں سرمایہ کاری جیسی‘
یوکرین کے صدر نے کہا کہ روس کو پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینا ایسی جنگ میں سرمایہ کاری کرنے کے مترادف ہے، جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے مزید آگے بڑھایا جائے۔انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے یکساں اور حقیقی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کردیتا ہے تو یوکرین بھی روس کی تیل تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امریکہ سے اپیل کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں باہمی معاہدہ کرانے میں کردار ادا کرے۔
امریکہ سے منصفانہ حمایت کی اپیل
زیلنسکی نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ امریکہ ہمارے لوگوں اور ان کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے منصفانہ حمایت فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ روس سے بھی اتنی ہی مضبوطی سے بات کرے۔ مضبوط انداز میں، کمزور انداز میں نہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read