دہلی میں احتجاج کے درمیان سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ممتا بنرجی کے بعد عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کو بھی دہلی پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ ترنمول کانگریس کے رہنماؤں ڈیرک اوبرائن اور ڈولا سین کے خلاف بھی کارروائی کی اطلاعات ہیں۔ اس دوران دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور کئی علاقوں میں آمد و رفت متاثر ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔
2 ہزار مظاہرین کو حراست میں لینے کا دعویٰ
مظاہرے کے دوران اب تک تقریباً 2 ہزار افراد کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ریس کورس کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بڑھنے اور پولیس پر پتھراؤ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس نے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ تاہم، حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور جائے وقوعہ کی صورت حال کی سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
دہلی کے 45 میٹرو اسٹیشن بند ہونے کی اطلاع
احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو کی خدمات بھی متاثر ہونے کی خبریں ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، دارالحکومت میں 45 میٹرو اسٹیشن بند کیے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔
اگر یہ پابندیاں نافذ ہیں تو ان سے مسافروں، مقامی کاروبار اور عام لوگوں کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے میٹرو کی سرکاری اطلاع ضرور دیکھ لیں۔
ہوائی اڈے پر سی جے پی کے بانی ابھجیت دپکے حراست میں
اس پورے واقعے کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دپکے کو دہلی ہوائی اڈے پر پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم، ان کی حراست کی وجوہات اور ان کے خلاف کسی باضابطہ کارروائی کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔
راہل گاندھی پر بی جے پی کے تبصرے سے سیاسی تنازع بڑھا
اسی دوران بی جے پی کی جانب سے راہل گاندھی کے لیے ’نااہل رہنما‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ اس بیان اور رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کے واقعات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔
فی الحال پولیس کی کارروائی، احتجاج کی وجوہات اور میٹرو و انٹرنیٹ خدمات پر عائد پابندیوں کے بارے میں سرکاری تصدیق اور تفصیلی معلومات کا انتظار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

