Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee: ہندوستان میں جمہوریت کا قتل کیا گیا،ممتا بنرجی کو حراست میں لیا گیا، دہلی پولیس، آپ کی ہمت کیسے ہوئی؟

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی اور شاہ کی جوڑی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ اقتدار کی حدود کو مسلسل پار کرنے کی کوشش کریں، لیکن کوئی بھی حکومت جواب دہی سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اقتدار ہمیشہ کے لیے رہتا ہے۔

ئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کی حمایت میں کئی اپوزیشن جماعتیں سامنے آئی ہیں۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی احتجاج میں شامل ہونے کے لیے نکلی تھیں، لیکن انہیں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے دہلی پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے حراست میں لے لیا۔ انہیں پولیس وین میں بٹھایا گیا۔ ممتا بنرجی کے ساتھ ڈیرک اوبرائن، ڈولا سین اور دیگر رہنماؤں کو بھی حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔


دہلی پولیس پر سنگین الزامات
ممتا بنرجی نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں پُرامن مظاہرین کو حراست میں لینا کب سے معمول بن گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب پُرامن احتجاج کا جواب بات چیت کے بجائے حراست کی صورت میں دیا جاتا ہے تو اس سے جمہوری اقدار پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پر کیا لکھا؟
ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی اور شاہ کی جوڑی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ اقتدار کی حدود کو مسلسل پار کرنے کی کوشش کریں، لیکن کوئی بھی حکومت جواب دہی سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اقتدار ہمیشہ کے لیے رہتا ہے۔انہوں نے اس دن کو جمہوریت کے لیے ایک سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی کبھی نہیں رکنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read