ملک کی سلامتی کے معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پالیسی سخت اور واضح رہی ہے۔ غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہونے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔ اسی کڑی میں جموں و کشمیر سے 150 غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کرکے ان کے ملک واپس بھیجنے کی کارروائی کی گئی ہے۔ پیر کے روز ان تمام افراد کو بھارتی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے سری نگر سے مغربی بنگال کے باگڈوگرا پہنچایا گیا۔ وہاں مزید قانونی کارروائی کے لیے انہیں بارڈر سکیورٹی فورس (BSF) کے حوالے کردیا گیا۔ حکام کے مطابق جانچ کے دوران ان افراد کے پاس بھارت میں قیام سے متعلق کوئی جائز دستاویز نہیں ملی تھی۔
قومی سلامتی اور آبادیاتی تبدیلی پر سخت نظر
وزارت داخلہ کی ہدایات کے بعد سرحدی اور حساس علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی شناخت کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں بغیر قانونی دستاویزات کے غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کو صرف امن و قانون کا معاملہ نہیں سمجھا جارہا، بلکہ اسے قومی سلامتی اور آبادیاتی تبدیلی سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے 20 اضلاع میں تقریباً 7,656 روہنگیا اور 504 بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کی گئی تھی۔ ان میں سے بڑی تعداد جموں خطے میں مقیم بتائی گئی ہے۔
نروال سے بانہال تک کارروائی کا سلسلہ
غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی مسلسل جاری ہے۔ ستمبر میں جموں کے نروال علاقے میں روہنگیا باشندوں کی غیر قانونی جھگیوں کو خالی کرایا گیا تھا۔ اس سے کچھ ماہ قبل رام بن کے بانہال میں بھی 21 مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر بغیر دستاویزات کے کشمیر کی جانب جارہے تھے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی بھی آبادیاتی تبدیلی اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے نیٹ ورک سے متعلق معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جموں و کشمیر سے 150 بنگلہ دیشی شہریوں کی ملک بدری کو غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائی میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




