نئی دہلی: مرکزی وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے منگل کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے راہل گاندھی کو وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کارکنوں سے ’بے لوث خدمت‘ سیکھنے کا مشورہ دیا۔ رجیجو نے اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے اس احتجاج پر بھی سوال اٹھایا، جس میں ارکان پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کیا تھا۔ اپوزیشن ارکان کے مارچ کو سکیورٹی فورسز نے راستے میں ہی روک دیا۔ اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رجیجو نے اپوزیشن کی حکمت عملی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اس کے اتحادی مسلسل الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ رجیجو نے ایسے مظاہروں کو ’ڈرامہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اسے بند کرنے کا وقت آگیا ہے۔
’عوام کا اعتماد خدمت سے حاصل ہوتا ہے‘
رجیجو نے کہا کہ جمہوریت میں کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کو عوام کی حمایت اس کے کام اور خدمت کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جب کسی پارٹی کو انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ نہیں ملتا تو وہ الیکشن کمیشن پر سوال اٹھانے لگتی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے معاملے پر بھی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ عدالت کی جانب سے معافی مانگنے کے لیے کہے جانے کے باوجود کانگریس بعد میں عدلیہ پر ہی سوال اٹھانے لگتی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن یا حکومت کو ’چور‘ کہنا جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کا راستہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی سیاست سے کانگریس کو بھی کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے ان کارکنوں سے سیکھنا چاہیے جو طویل عرصے سے ملک اور معاشرے کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر راہل گاندھی مسلسل عوام کے درمیان رہ کر ان کی خدمت کریں گے تو عوام کا اعتماد حاصل کیا جاسکتا ہے۔
رجیجو نے ایمرجنسی کا بھی ذکر کیا
کرن رجیجو نے اپنی تنقید کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس کے دورِ حکومت، خاص طور پر سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ملک میں طویل عرصے تک حکومت کرنے کا موقع ملا اور اسی دوران ایمرجنسی بھی نافذ کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دور میں آئین کی تمہید میں تبدیلی کی گئی تھی۔ رجیجو نے اسی تناظر میں کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو جماعت آج جمہوریت کی بات کرتی ہے، عوام کو اس کے دورِ حکومت کی تاریخ بھی یاد رکھنی چاہیے۔
’بھارت مخالف بیانیے‘ سے دور رہنے کی اپیل
مرکزی وزیر نے کانگریس اور راہل گاندھی سے ایسے بیانیے کو فروغ نہ دینے کی بھی اپیل کی جسے وہ بھارت مخالف طاقتوں سے جوڑتے ہیں۔ رجیجو نے الزام عائد کیا کہ کچھ بیرونی طاقتیں بھارت کو کمزور کرنے، آئینی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے والے بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے کانگریس سے ایسی کوششوں سے دور رہنے کو کہا۔ رجیجو نے مزید کہا کہ ملک کی سیاست بدل چکی ہے اور اب عوام ترقی اور ’وکست بھارت‘ جیسے مسائل پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں محض کسی سیاسی خاندان میں پیدا ہونے کی بنیاد پر وزیر اعظم بننا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا نوجوان وزیر اعظم مودی کے ساتھ ’وکست بھارت‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا کے بجائے زمین پر کام کرنے کا مشورہ
کانگریس کو مشورہ دیتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ اگر پارٹی واقعی عوام کا اعتماد اور انتخابی مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے سوشل میڈیا پر سیاسی بیانیہ بنانے کے بجائے زمین پر عوام کے درمیان کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود اپوزیشن میں رہتے ہوئے تقریباً 25 سال تک گاؤں گاؤں جاکر لوگوں کے درمیان کام کیا ہے۔ رجیجو نے کہا کہ آج ملک کے سامنے ترقی اور آگے بڑھنے کے بڑے چیلنجز ہیں اور حکومت ’وکست بھارت‘ کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی اور ان کے ساتھیوں کے احتجاج کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



