Bharat Express DD Free Dish

PM Narendra Modi: گرین انرجی اسکیم، 2035 تک 900 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کا ہدف حاصل کرنے کی جانب اہم پیش رفت، پی ایم مودی

گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل یقینی بنانے کا منصوبہ، 50 GWh بیٹری اسٹوریج اور مضبوط بجلی گرڈ کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کہا کہ گرین انرجی کوریڈور فیز-III (GEC-III) کو مرکزی کابینہ کی منظوری ملک کو 2035 تک 900 گیگاواٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کی صلاحیت کے ہدف تک پہنچانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے صاف توانائی، مضبوط بجلی گرڈ اور روزگار پیدا کرنے کی کوششوں کو نئی رفتار ملے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’صاف بجلی، مضبوط گرڈ اور زیادہ مواقع‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل یقینی بنائی جائے گی، 50 گیگاواٹ-آور (GWh) بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت تیار کی جائے گی اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بجلی کے گرڈ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس منصوبے سے مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ پہل بھارت میں صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو مزید تیز کرے گی۔

ربیع فصلوں کی MSP میں اضافے کو بھی منظوری

ایک دیگر ’ایکس‘ پوسٹ میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور ان کی آمدنی میں اضافے کے لیے حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ اسی سمت میں حکومت نے 28-2027 کے مارکیٹنگ سیزن کے لیے ربیع فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (MSP) میں اضافے کو منظوری دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس فیصلے سے ملک کے کروڑوں کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملنے کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

بجلی کی مجموعی صلاحیت 552 گیگاواٹ تک پہنچی

مرکزی کابینہ نے بدھ کو GEC-III منصوبے کو منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 135 گیگاواٹ تک قابلِ تجدید توانائی کی مؤثر ترسیل اور گرڈ میں انضمام کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ بھارت کے توانائی شعبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے توسیع ہوئی ہے۔ جولائی 2026 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 552 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2014 میں یہ تقریباً 249 گیگاواٹ تھی۔ اس میں 300.50 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت شامل ہے، جو ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 54 فیصد سے زیادہ ہے۔ بھارت اس وقت قابلِ تجدید توانائی کی نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

سولر انرجی میں بھی تیزی سے اضافہ

شمسی توانائی کے شعبے میں بھی بھارت نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ جولائی 2026 تک ملک کی نصب شدہ شمسی توانائی کی صلاحیت 164.59 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو 2014 میں صرف 2.8 گیگاواٹ تھی۔ شمسی توانائی اب بھارت کی مجموعی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کا سب سے بڑا جزو بن چکی ہے۔ سال 2025 میں بھارت دنیا کی دوسری سب سے بڑی شمسی توانائی کی اضافی صلاحیت والا بازار بن گیا۔ اس دوران ملک نے 37 گیگاواٹ سے زیادہ نئی شمسی توانائی کی صلاحیت شامل کی، جبکہ امریکہ میں یہ اضافہ تقریباً 34 گیگاواٹ رہا۔

1.86 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت

گرین انرجی کوریڈور فیز-III منصوبے کو مالی سال 33-2032 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 1.86 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہوگی۔ اس میں تقریباً 1.36 لاکھ کروڑ روپے ریاستوں کے اندر ٹرانسمیشن نظام تیار کرنے پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 50,000 کروڑ روپے کی لاگت سے 50 GWh بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) قائم کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے والے مراکز یا گرڈ کے دیگر اہم مقامات پر نصب کیے جائیں گے۔ ان کا مقصد شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کی غیر مستقل دستیابی، گرڈ پر بڑھتے دباؤ اور بجلی کی زیادہ طلب والے اوقات میں پیدا ہونے والے مسائل سے بہتر انداز میں نمٹنا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کے لیے 54,082 کروڑ روپے کی مرکزی مالی امداد کا بھی انتظام کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read